اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے
پر طرز تکلم ترا خوں ریز بہت ہے
گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر
اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے
محفل میں ترے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم
احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے
اک شخص جو الجھا ہے نئی فکر و نظر میں
وہ صاحب خوش فہم ہے اور تیز بہت ہے
جو بات تو کہتا ہے وہی بات ہو شاید
لیکن تری یہ بات غم انگیز بہت ہے
بھڑکے ہوئے شعلے ہی متاع دل و جاں ہیں
عالمؔ ترے کوچے میں ہوا تیز بہت ہے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے