Ae Dil Tere Fasanay

ﺍﻧﻮﺭ ﺟﻤﺎﻝ ﺍﻧﻮﺭ
اے دل ترے فسانے

گذشتہ سات برسوں سے اس کا نمبر میرے سیل فون میں سیو تھا مگر اس سے بات نہ ہوتی تھی کئی بار میں نے اس کا نمبر ڈائل کر کے کاٹ دیا کہ کیا فائدہ ، وہی ہائے ہیلو ، خيریت ، آپ کیسے ہیں ، میں ٹھیک ہوں ، کاروبار بھی ٹھیک ھے ، بچے بھی ٹھیک ، بھابھی بھی ٹھیک ، سب ٹھیک ،،،، شاید یہی سب سوچ کر وہ بھی مجھے کال نہیں کرتا تھا ،،،

آج اس کی کال آئی تو خيال آیا ضرور کوئی اہم بات ہوگی ،،، کال رسیو کی تو اس نے کہا ،، ابھی ابھی میرا اس سے سامنا ہوا ھے ، بازار میں آئی تھی ، اسے دیکھ کر میں ہنس دیا ،،

اس نے ابھی یہاں تک ہی کہا تھا کہ میرے برق رفتار ذہن کے میموری کارڈ نے پرانی فائيلیں اپ لوڈ کرنا شروع کر دیں ،،، اگلے چند سیکنڈوں میں مجھے یاد آگيا کہ وہ کس کا ذکر کر رہا ھے .

تم نے بشرا کو دیکھا ؟ میں نے پوچھا

ہاں ! وہی وہی ،، اسے جب بھی دیکھتا ہوں مجھے تمہاری یاد آ جاتی ھے ،، اس بار تو اس نے پوچھ بھی لیا ،، سعید بھائی ، کیوں ہنس رہے ہو ؟ اب میں اسے کیسے بتاتا کہ تمہیں دیکھ کر مجھے کراچی والے دوست کا خیال آ جاتا ھے ،،،

میں نے کہا ،، یار تم بتا بھی دیتے تو اسے کیا پتہ چلتا ، وہ میرے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں ،،

ہاں جبھی تو میں ٹال گيا ،،، سعید بولا ،،پھر وہی رسمی ہائے ہیلو کے بعد اس نے فون بند کر دیا ،،

رات کو سونے سے پہلے یادوں کے دریچے سے بشرا کا چہرہ جھانکا اور اس نے گمشدہ دنوں کے احساس کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ، تیکھے نقوش والا نکیلا کٹیلا سا دل میں چبھ جانے والا وہ اس کا چہرہ ،،، گھر سے آدھا کلو میٹر دور اس کے ابے کی مٹھائيوں کی دکان تھی ،،، وہ بارہ بجے دن میں ابے کا کھانا لے کر روز گھر سے نکلتی اور میں اس کا پیچھا شروع کر دیتا مگر اس قدر احتیاط سے کہ اسے خبر نہ ہو ،،، کچی عمر تھی ، ڈر لگتا تھا کہ اگر اسے پتہ چلا تو اپنے ابے سے شکایت کر دے گی یا شکایت نہ بھی کرے تو یہ ضرور سوچے گی کہ یہ برا لڑکا ھے ،،،،،
ان دنوں کسی لڑکی کا پیچھا کرنا بہت معیوب مانا جاتا تھا لیکن خاموش محبت کا پودا تناور درخت بھی بن جائے تو پھل کب دیتا ھے ،،، نہ اس پر پھول لگتے ہیں نہ ہی وہ سایا دینے کے قابل ہوتا ھے ،،،
اس کے باوجود میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا رہا ،،، جب وہ سامنے سے گزر جاتی تو میں بھاگ کر دوسری گلی سے ہوتا ہوا ایک بار پھر اس مقام پر جا پہنچتا جہاں سے اس کا دیدار نصیب ہو ،،، ان دنوں محبتیں معصوم ہوتی تھیں خالی دیدار کر لینا ہی بڑا دلفریب ہوتا تھا ،، سارا دن خماری سی رہتی ، سرشاری کا احساس روح تک میں اتر جاتا ،،

سعید کہتا تھا یکطرفہ محبت لعنت ہوتی ھے ، تو اتنا ہی شرمیلا ھے تو میں اس سے تیرے بارے بات کرتا ہوں چلو وہ محبت کا جواب محبت سے نہ دے مگر اسے علم تو ہو کہ کوئی روز اس کا پیچھا کرتا ھے ،، اسے چاہتا ھے ،،،، میں اسے سختی سے منع کر دیا کرتا اور وہ ہنس ہنس کر مذاق اڑاتا ،،،،

اگلے روز میں نے سعید کو فون کیا ،، یار میں عید کی چھٹیوں میں شیخوپورہ آ رہا ہوں تم کسی طرح میری اس سے ملاقات کرا دینا ،،،،
سعید پھر ہنسنے لگا ،.،، اسے ہنسنے کی بیماری ہے ؛ کہنے لگا اب کیا فائدہ ،،بیس بائس سال پرانی بات ھے اب تو تیرے بھی تین چار بچے ہیں اور اس کے بھی ،،میں نے کہا یار اور کچھ نہیں تو کم از کم اسے علم ہی ہو جاے کہ کو ئی تھا ،،،،،،،،،

سعید نے ہنس کر کہا ،، اچھا تو آ پھر دیکھتے ہیں

جانے کس طرح سعید نے اس کے شوہر کو دائیں بائيں کیا ہو گا وہ مجھے لے کر اس کے گھر پہنچا تو اسے دیکھ کر ایک بار پھر مجھے شرمیلے پن کا دورہ پڑا اور میری زبان تالو سے چپک گئی ،گو کہ اب وہ پہلے جیسی خوبصورت نہیں رہی تھی مگر چہرہ تو وہی تھا نا ،،، نکیلا کٹیلا سا ، دل میں چبھ جانے والا
بالآخر سعید نے ہی اسے بتانا شروع کیا کہ یہ صاحب کون ہیں اور کس صفائی سے ہر روز تمہیں دکان اور دکان سے گھر تک چھوڑنے جاتے تھے

ممکن ھے وہ یہ سب سن کر حیران ہو رہی ہو ، میں اس کی طرف زیادہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا ،،

باہر نکل کر سعید نے مجھے بہت ڈانٹا ،، ابے تیرے جیسے جھینپو کو کسی سے پیار کرنے کا حق ہی نہیں ہونا چاہئیے لڑکیاں اظہار چاہتی ہیں اتنی خاموشی کو کوئی پسند نہیں کرتا

میں پچھتانے لگا کہ کراچی سے یہاں تک آيا ہی کیوں تھا ،کیا ملا مجھے بشرا کے سامنے کچھ جتا کر ،،وہ میری طرف سے لا علم تھی تو لا علم ہی رہتی

جس دن میری واپسی تھی سعید ریلوے اسٹیشن پر میرے ساتھ تھا جب ٹرین چلنے لگی تو آخری لمحوں میں اس نے مجھے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ ایسا بشرا نے ہی کہا تھا کہ جب ٹرین چلنے لگے تو میں یہ تمہیں دوں

شاید بشرا نے خط لکھا تھا – اسے کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ریل گاڑی سرپٹ دوڑنے لگی بشرا اور سعید بہت پیچھے رہ گئے اور تب میں نے اسے کھول لیا اس میں میرا دسویں کلاس کا وہ آئڈینٹی کارڈ تھا جو اسکول کی طرف سے ملتا ھے کارڈ پر بیس بائیس سال پہلے کی میری تصویر بھی چسپاں تھی ،،،
بشرا نے ایک چھوٹے سے کاغذ پر لکھا تھا ،، یہ آپ کا کارڈ ایک دن راستے میں گر گیا تھا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے