آدمی کو خاک نے پیدا کیا

آدمی کو خاک نے پیدا کیا
خاک کے ساتھ آدمی نے کیا کیا

رحم کے قابل نہیں تھا آدمی
آسماں نے جو کیا تھوڑا کیا

سوچ لُوں کیا سوچنا ہے، کیا نہیں
سوچنے والا یہی سوچا کیا

ایک دُنیا مجھ سے تھی روٹھی ہوئی
تو نے بھی ٹھکرا دیا، اچھا کیا

کون تھا میرے سوائے صحن میں
وہ مجھے چھپ چھپ کے کیوں دیکھا کیا

پہلے سب سے مشورت کی بیٹھ کر
اور اُس کے بعد جو چاہا کیا

وہ بہت سیدھا سہی لیکن شعور
میرے ساتھ اُس نے بڑا دھوکا کیا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے