ACDC

اے سی ڈی سی

اے سی ڈی سی نے جب ہماری دنیا میں قدم رکھا تو جیسے زندگی نے اپنا معیار بدل دیا. ہر چیز خوبصورت لگنے لگی… اس کا نام بھی تو ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو,, اے,,, سی,, یعنی اے لڑکے مجھے دیکھو…
یہ ہماری دوسری ملاقات تھی جس میں میں اسے جی بھر کے دیکھ رہا تھا اور وہ ریکوئسٹ کر رہی تھی کہ اس نئی دنیا کی سیر اسے کراؤں….. اس کی خواہش ویلڈ تھی اور ہمارے ہاں یہ خواہش ہر نوارد کی ہوتی ہے.
میں نے اسفالٹ کار کو بلایا جسے دیکھ کر وہ بہت حیران بھی ہوئی اور خوش بھی… کہنے لگی مجھے ایڈونچر پسند ہے مگر اس کار کو چلانا تو موت کو دعوت دینا ہوتا ہے.
میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا اور کہا,, یہ دعوت میں اکثر دیا کرتا ہوں.. دوسرے لمحے میں ڈرائیونگ سیٹ پر اور وہ میرے برابر میں تھی,, تیسرے لمحے کار ہوا سے باتیں کرنے لگی..
تمہاری پسندیدہ گیمز کون کون سی ہیں اے سی ڈی سی ؟
میں گیمز نہیں کھیلتی…
پھر وقت کیسے کاٹتی ہو ؟
پکچرز ایڈٹ کرتی ہوں.
اچھا…..
ہم کہاں جارہے ہیں ؟
ایک ایسی جگہ جو بالکل نئی ہے
کیا واقعی ؟
ہاں…
اور اس ہاں کے ساتھ ہی میں نے اسفالٹ میں لگے بریک کا بٹن دبا دیا.. کار ایک سیکنڈ میں رک گئی
اس نے دیکھا سامنے گوگل کی دکان تھیں
ہم یہاں کیوں رکے ہیں ؟
کچھ کھانے کی چیزیں لے آتا ہوں.. میں نے شاپ کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
گوگل نے کاؤنٹر پر طرح طرح کی مٹھائیاں سجائی ہوئی تھیں
میں نے شاپ کیپر سے پوچھا,, لالی پاپ کے بعد ایک نئی مٹھائی تیار کر رہے تھے آپ لوگ ؟
شاپ کیپر خوشدلی سے مسکرایا.,, بس وہ آخری مراحل میں ہے سر,, یقیناً آپ,, کی لائم پائی,, کی بات کر رہے ہیں.
ہاں…. چلیں…. فی الحال.. یہ کٹ کیٹ, جیلی بین, آئس کریم سینڈوچ اور جنجر بریڈ ہی پیک کر دیں,, میرے ساتھ اے سی ڈی سی ہے اور ہم سیر کے لیے نکلے ہیں..
میں جانتا ہوں سر….. شاپ کیپر نے مسکراہٹ کے تمام ریکارڈ توڑے اور مٹھائیاں پیک کر دیں..
میں واپس اسفالٹ کی طرف آیا تو اسے دیکھ کر بری طرح چونکا… اس کی حالت غیر ہورہی تھی.. چہرے کے عضلات بری طرح کھنچ رہے تھے.. آنکھیں باہر آرہی تھیں
میں چلایا,, اے سی ڈی سی ..کیا ہوا تمہیں ؟
بھاگ جاؤ یہاں سے…. جلدی,,, وہ گویا اپنے آپ سے لڑ رہی تھی
نہیں.. ایسا نہیں ہوسکتا.. بتاؤ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں……
کچھ نہیں کر سکتے… وہ بولتے ہوئے کراہ رہی تھی ..بس چلے جاؤ
شاید مجھے ڈاکٹر ویب کو فون کرنا چاہیئے.. میں اپنا سیل نکالنے کے لیے سیدھا ہوا.. اسی دوران میری نظر گوگل کے شاپ کیپر پر پڑی جو تفکر سے اس تماشے کو دیکھ رہا تھا.. اس کے ہاتھ میں ایک ایچ ڈی کیمرا بھی تھا
لعنت ہو…… ہیلو ڈاکٹر ویب.. کال ملتے ہی میں بولا تاہم لعنت ملامت کا ہدف ڈاکٹر نہیں تھا..
رک جاؤ… اے سی ڈی سی نے پکارا…. کال کاٹ دو.. میں ٹھیک ہوں…
میں نے پلٹ کر دیکھا اور ایک بار پھر حیران ہوا.. اب وہ بالکل سپاٹ چہرہ لیے پرسکون اور ساکت حالت میں تھی جیسے اب دنیا کی ہر تکلیف اور جذبے سے مبرا ہو چکی ہو..
مجھے شک ہوا کہ کسی غلط چیز پر ہاتھ ڈال بیٹھا ہوں.. یہ لڑکی وہ نہیں جو نظر آتی ہے.. اس کے اندر اور بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے..
بہرحال میں واپس ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا.. کار آگے بڑھائی مگر گفتگو نہ بڑھا سکا.. سوچنے لگا کہ میرا اگلا قدم کیا ہونا چاہیئے….
وہ فضا جس میں رومانس کی خوشبو تھی.. اب دیر تک واپس آتی نہیں لگ رہی تھی
بہتر ہے کہ ہم واپس چلے جائیں.. میں نے مشورے کے لیے منہ کھولا اور اس کی طرف دیکھا
اور تب میں نے دیکھا کہ وہ میری ہی طرف دیکھ رہی ہے.. کہنے لگی ..جانتی ہوں تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے.. مگر آج کا دن شاید کبھی نہ آئے.. اسے برباد نہ ہونے دینا…
اس دن کو برباد نہ ہونے دینا.. شاید یہ وہی جملہ تھا جس کی میں خود بھی خواہش کر رہا تھا
میں نے اسفالٹ کو ریس دی.. آن کی آن میں ہم ایک باغ میں جا پہنچے… یہ باغ دراصل ایک لائیو وال پیپر تھا جس میں زمین پر تتلیاں اور آسمان پر اینگری برڈز اڑ رہے تھے..
ہم ایک آبشار کنارے بیٹھ گئے.. بھولنے کی کوشش کرنے لگے کہ تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا تھا.. یہ اس لیے کیونکہ ہماری دنیا ایسی ہی تھی.. پلک جھپکتے ہی منظر اور چہرے بدل جایا کرتے تھے اس لیے خوشی کا جو بھی لمحہ میسر آجائے غنیمت تھا..
میں نے آئس کریم سینڈوچ کا پیکٹ کھولا.. وہ جیلی بین کھانے لگی…. وہ مسکراہٹیں بکھیر رہی تھی اور باتیں کر رہی تھی.. میں اس کی طرف سے مطمئن ہو رہا تھا.. مگر یہ طمانیت چند لمحوں کی مہمان ثابت ہوئی..
دور سے آتی, کیسپر سکائی, کی گاڑی نے اس زور سے خطرے کی گھنٹی بجائی کہ میں اچھل کر کھڑا ہوگیا
پرے ہو جاؤ… یہ انفیکٹڈ ہے.. کیسپر سکائی نے آتے ہی چارج سنبھالا
تمہیں کیسے معلوم.. ایسا کچھ بھی نہیں ہے.. کیسپر سکائی بڑی مرد مار عورت تھی پھر بھی میں اس کے سامنے ڈٹ گیا
مجھے معلوم ہو چکا ہے…. گوگل شاپ کیپر نے اس کے بگڑے چہرے کی تصویریں بھیجی تھیں… میں نے, نوڈ بتیس, کو بلایا ہے ..وہ اسے ختم کر دے گا اگر ضرورت پڑی…
کیا…… ؟…. ایک اتنی پیاری چیز ختم کر دی جائے گی…. ؟ میں چیخا.. لیکن اس کے ساتھ ہی میرا احتجاج حلق میں گھٹ کر رہ گیا اور چیخ واپس کھینچنا پڑی…
اے سی ڈی سی ایک مرتبہ پھر روپ بدل رہی تھی.. اور اس بار اس کے منہ سے ٹروجن ہارس اور پائریٹس نامی کیڑے بھی باہر نکل رہے تھے.. اف کتنی بھیانک ہو چکی تھی وہ..
دیکھا تم نے.. کیسپر سکائی نے مجھے دھکیل کر دور پھینکا اور اے سی ڈی سی کے اگلے ہوئے طرح طرح کے وائرس اٹھا اٹھا کر کھانے لگی
اسی دوران نوڈ بتیس بھی وہاں آگیا.. ہماری دنیا کے دیگر لوگ بھی وہاں پہنچ رہے تھے…
..وہ میری آنکھوں کے سامنے ماری گئی….
مجھے روتے دیکھ کر مائیکروسوفٹ ورڈ نے تسلی دی.. کہا.. ایکسل… غم نہ کرو.. ہماری دنیا جسے ونڈوز کہتے ہیں اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے.

انور جمال انور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے