ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو

ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
جھلک اس آنکھ کی دکھلا کے ستارہ مجھ کو
ہوں میں وہ شمع سر طاق جلا کر سر شام
بھول جاتا ہے مرا انجمن آرا مجھ کو
رائیگاں وسعت ویراں میں یہ کھلتے ہوئے پھول
ان کو دیکھوں تو یہ دیتے ہیں سہارا مجھ کو
میری ہستی ہے فقط موج ہوا نقش حباب
کوئی دم اور کریں آپ گوارا مجھ کو
دام پھیلاتی رہی سود و زیاں کی یہ بساط
ہاں مگر میرے جنوں نے نہیں ہارا مجھ کو
کچھ شب و روز و مہ و سال گزر کر مجھ پر
وقت نے تا بہ ابد خود پہ گزارا مجھ کو
موج بے تاب ہوں میں میرے عناصر ہیں کچھ اور
چاہیے صحبت ساحل سے کنارا مجھ کو
رزق سے میرے مرے دل کو ہے رنجش خورشیدؔ
آسمانوں سے زمینوں پہ اتارا مجھ کو
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے