Abrow To Dikha Degiye

ابرو تو دکھا دیجیے شمشیر سے پہلے

تقصیر تو کچھ ہو مری تعزیر سے پہلے

معلوم ہوا اب مری قسمت میں نہیں تم

ملنا تھا مجھے کاتبِ تقدیر سے پہلے

اے دستِ جنوں توڑ نہ دروازۂ زنداں

میں پوچھ تو لوں پاؤں کی زنجیر سے پہلے

اچھا ہوا آخر مری قسمت میں ستم تھے

تم مل گئے مجھ کو فلکِ پیر سے پہلے

بیٹھے رہو ایسی بھی مصور سے حیا کیا

کاہے کو کھنچے جاتے ہو تصویر سے پہلے

دیکھو تو قمر ان کو بلا کر شبِ وعدہ

تقدیر پہ برہم نہ ہو تدبیر سے پہلے

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے