ابھی تجسیم باقی ہے

ابھی تجسیم باقی ہے
یہ کیسی عید آئی ہے
جہاں منظر نہیں ملتا
اندھیرا ہی اندھیرا ہے
ملن رُت میں جو آنکھو ں نے
کسی کے خواب بننے تھے
لباس زندگی لے کر گریباں چاک سینے تھے
دریدہ دامن شب سےاجالے کھوج لانے تھے
وہ سارے شاخچوں کی
باس سے شبنم اُٹھا لائی
فضا میں آگئی کیسے
یہ وحشت سر پھری ہوکر
ہوا کے ساتھ شامل تھی
کہ جس نے موت سے مل کر
نئی سازش گھڑی تھی اور
سمندر کی زمیں پہ رقص کرتے
بادبانوں کو جلا ڈالا
مکینوں اور مکانوں کا ہلا ڈالا
کسی شوریدہ منظر کی
ابھی تجسیم باقی تھی
جلا ہے جسم ،جلی آنکھیں
جلے خوابوں کی ساری کرچیاں چن کر
انھیں تکفین کرنے دو
انھیں تدفین کرنے دو
ثمینہ گُل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے