ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے

ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے

قسم ہے تمھارے توجہ بھرے جسم کی
میں ابھی ارتقائی مراحل میں ہوں
جب کبھی
جستجو کا شرارا بجھے گا
زمیں سے ملے گا
سمندر کا دوجا کنارا

اگر گرد بیٹھے تو پردہ اٹھاؤں
خدا کے بدن سے
سنبھالو ابھی کچھ برس اپنے بوسے
مرے ہونٹ
پیچھے کسی جھیل پر رہ گئے ہیں

ابھی وقت کم ہے
زمیں کاٹ لی ہے
فلک بانٹ کر
کچھ ستاروں کو مٹھی میں لینا ہے
دو چار جنگوں کی دوری پہ ہیں
وصل کی کائناتیں

ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے
چراغوں کی لو اپنے سینے کی ڈھلوان میں
روک رکھو

میں زرا
یہ بقا کی پہاڑی اتر لوں
تو ملتا ہوں تم سے

منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے