اب۔۔۔۔

اب۔۔۔۔

موت بھی گھبرا رہی ہے زندگی کے خوف سے
ہر کلی مرجھا رہی ہے زندگی کے خوف سے
اب کے پیمانے وفا کے اس طرح بدلے یہاں
خود جفا شرما رہی ہے زندگی کے خوف سے
نور و ظلمت کا یہاں اب فرق بھی مٹنے لگا
ہر نظر پتھرا رہی ہے زندگی کے خوف سے
اب نشانِ رہ کوئی ہو منزلیں ملتی نہیں
رہ گزر دھندلا رہی ہے زندگی کے خوف سے

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے