Abad Ky Samundar ki

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کاکنول تیرتا ہے

ابد کے سمندر کی اک موج جس پر مری زندگی کاکنول تیرتا ہے

کسی ان سنی راگنی کی کوئی تان – آزردہ ، آوارہ، برباد

جو دم بھر کی آ کر مری الجھی الجھی سی سانسوں کے سنگیت میں چھل گئی ہے

زمانے کی پھیلی ہوئی بیکراں وسعتوں میں یہ دو چار لمحوں کی معیاد

طلوع و غروب مہ و مہر کے جادوعئی تسلسل کی دو چار کڑیاں

یہ کچھ تھرتھراتے اجالوں کاروماں ، کچھ سنسناتے ادھیروں کا قصہ

یہ جو کچھ میرے زمانے میں ہے اور یہ جو کچھ کہ اس کے زمانے میں میں ہوں

یہی میرا حصہ ازل سے ابد کے خزانوں سے ہے بس یہی میرا حصہ

یہ صہبائے امروز ، جو صبح کی شہزادی کی مست انکھڑیوں سے ٹپک

بدرو حیات آگئ ہے! یہ ننھی سی چڑیاں جو چھت میں چہکنے لگی ہیں

ہوا کا یہ جھونکا جو میرے دریچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا گیا ہے

پڑوسن کے آنگن میں ، پانی کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں

یہ دنیائے امروز میری ہے، میرے دل زار کی دھڑکنوں امیں ہے

یہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحیں ، یہ آہوں سے معمور دو چار شامیں

انہیں چلمنوں سے مجھے دیکھنا ہے وہ جو کچھ کہ نظروں کی زد میں نہیں ہے

مجید امجد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے