ابد کی نیند سے بیزار ہونے والا نہیں

ابد کی نیند سے بیزار ہونے والا نہیں
جو سو چکا ہے وہ بیدار ہونے والا نہیں
کشش تو رکھتی ہے وہ چشمِ نیم باز بہت
مگر میں اس سے گرفتار ہونے والا نہیں
میں چلنے والوں کو سمجھا چکا قیامت تک
یہ راستہ کبھی ہموار ہونے والا نہیں
یہ دوڑ دھوپ تو بے کار جائے گی میری
اگر وہ مجھ سے خبر دار ہونے والا نہیں
میں چل پڑا ہوں اکیلا طلب بھی کیا شے ہے
مگر یہ دشتِ جنوں پار ہونے والا نہیں
انا کا مارا ہوا ہوں مَیں خود سے ہارا ہوا
سو ایسی شرطوں پہ تیار ہونے والا نہیں
وہ اشکِ سرخ جو دھندلا گیا بصارت کو
بتا رہا ہے کہ دیدار ہونے والا نہیں
وہ تین تھا جسے تم چار کہہ رہے تھے میاں
یہ پانچ ہے جو کبھی چار ہونے والا نہیں
ہوا کی ہار یقینی ہے زیبؔ جنگل میں
کوئی درخت نگوں سار ہونے والا نہیں
اورنگ زیبؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے