اب اُس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں

اب اُس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں
کہ ہم گھر میں نئی الماریاں بنوا رہے ہیں
ہمیں ملنا تو ان آبادیوں سے دور ملنا
اُسے کہنا گئے وقتوں میں ہم دریا رہے ہیں
بچھڑ جانے کا سوچا تو نہیں تھا ہم نے لیکن
تجھے خوش رکھنے کی کوشش میں دکھ پہنچا رہے ہیں
تجھے کس کس جگہ پر اپنے اندر سے نکالیں
ہم اس تصویر میں بھی تجھ سے مل کر آرہے ہیں
ہزاروں لوگ اُس کو چاہتے ہوں گے ہمیں کیا
کہ ہم اُس گیت میں سے اپنا حصہ گا رہے ہیں
بُرے موسم کی کوئی حد نہیں تہذیب حافی
خزاں آئی ہے اور پنجرے میں پر مرجھا رہے ہیں
تہذیب حافی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے