Ab To Khushi Ka Gham Hay

اب تو خوشی کا غم ہے ، نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

وہ وقت بھی خدا نہ دکھائے کبھی مجھے

ان کی ندامتوں پر ہو شرمندگی مجھے

رونے پہ اپنے اُن کو بھی افسردہ دیکھ کر

یوں بن رہا ہے ہوں جیسے اب آئی ہنسی مجھے

یوں دیجئے فریبِمحبت کہ عمر بھر

میں زندگی کو یاد کروں زندگی مجھے میں

رکھنا ہے تشنہ کام تو ساقی بس اک نظر

سیراب کر نہ دے مری تشنہ لبی مجھے

پایا ہے سب نے دل مگر اس دل کے باوجود

اک شے ملی ہے دل میں کھٹکتی ہوئی مجھے

راضی ہوں یا خفا ہوں جو کچھ بھی ہوں شکیل

ہر حال میں قبول ہے اُن کی خوشی مجھے

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے