اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر

اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر
جب تک شگاف تھے کچھ اتنا نہ جی رکے تھا
پچھتائے ہم نہایت سینے کے چاک سی کر
قصہ نہیں سنا کیا یوسفؑ ہی کا جو تونے
اب بھائیوں سے چندے تو گرگ آشتی کر
ناسازی و خشونت جنگل ہی چاہتی ہے
شہروں میں ہم نہ دیکھا بالیدہ ہوتے کیکر
کچھ آج اشک خونیں میں نے نہیں چھپائے
رہ رہ گیا ہوں برسوں لوہو کو اپنے پی کر
کس مردنی کو اس بن بھاتی ہے زندگانی
بس جی چکا بہت میں اب کیا کروں گا جی کر
حرف غلط کو سن کر درپے نہ خوں کے ہونا
جو کچھ کیا ہے میں نے پہلے اسے سہی کر
دن رات کڑھتے کڑھتے میں بھی بہت رکا ہوں
جو تجھ سے ہوسکے سو اب تو بھی مت کمی کر
رہتی ہے سو نکوئی رہتا نہیں ہے کوئی
تو بھی جو یاں رہے تو زنہار مت بدی کر
تھی جب تلک جوانی رنج و تعب اٹھائے
اب کیا ہے میر جی میں ترک ستمگری کر
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے