اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ غم گن رہا ہوں میں

اس کی طرف گیا ہوں گھڑی دیکھتا ہوا
اب واپسی پہ اپنے قدم گن رہا ہوں میں

متروک راستے میں لگا سنگ میل ہوں
آباد راستوں کے الم گن رہا ہوں میں

ٹیبل سے گر کے رات کو ٹوٹا ہے اک گلاس
بتی جلا کے اپنی رقم گن رہا ہوں میں

انگلی پہ گن رہا ہوں سبھی دوستوں کے نام
لیکن تمہارے نام پہ ہم گن رہا ہوں میں

کچھ عورتیں ہیں جنس کی تخصیص کے بغیر
کچھ چادریں ہیں جن کو علم گن رہا ہوں میں

آرش بھلا رہا ہوں کوئی یاد رفتگاں
اک بنچ ہے جو باغ میں کم گن رہا ہوں میں

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے