اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا
یہ ستارہ بھی مرے کام نہیں آ سکتا
یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو
اس کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا
جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں
باغ میں کوئی سیہ فام نہیں آ سکتا
ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ محفوظ ہوں میں
بجھنے والوں میں مرا نام نہیں آ سکتا
میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے
شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا
ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے میں نہ رہ جاؤں کہیں
کہلوا دیجئے میں شام نہیں آ سکتا
ادریس بابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے