اب لطف و بے خودی کے وہ موسم نہیں رہے

اب لطف و بے خودی کے وہ موسم نہیں رہے
تم تم نہیں رہے ہو کہ ہم ہم نہیں رہے
اک آرزو کے دل سے نکلنے کی دیر تھی
پھر سلسلے نگاہ کے پیہم نہیں رہے
ہم رزم گاہ زیست میں ہارے ضرور ہیں
لیکن کسی بھی حال میں بے دم نہیں رہے
سونپا تھا خود کو وقت کے ہاتھوں میں ایک روز
پھر اپنی دسترس میں کبھی ہم نہیں رہے
اُن پر کھُلی ہی کب ہیں محبت کی لذتیں
بے درد جو رہینِ شبِ غم نہیں رہے
کیوں ہم سے دوست یار گلہ مند ہیں سعید
ہم لوگ دشمنوں سے بھی برہم نہیں رہے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے