اب کسی بات پہ کیا اُس سے خفا ہونا ہے

اب کسی بات پہ کیا اُس سے خفا ہونا ہے
زندگی بھر کے لیے جس سے جُدا ہونا ہے
اے دِل درد نما! درد کی لَے دھیمی رکھ
شامِ وعدہ نے ابھی بال کشا ہونا ہے
تجھ سے بچھڑا ہُوں تو اب سینے کی محرابوں میں
کون دیکھے گا جو اِک حشر بپا ہونا ہے
بھول جانے کی طرح کون کسے بھولتا ہے
یہ الگ بات کہ راضی بہ رضا ہونا ہے
ہجر کو اوڑھ ابھی پیرہن تن کی طرح
کہ مرے غم کو ترے سر کی رِدا ہونا ہے
عشق میں ایسے بھی کچھ مرحلے آئیں گے کہ جب
ہار سے جیت کے صدمے کو سَوا ہونا ہے
خاک اُڑانی ہے سرِ ہجر خود اپنی خاور
قریۂ جاں میں پھر اِک رقصِ اَنا ہونا ہے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے