اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے

اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے
وہ لوگ جن کی دو ستی تھی آسمان سے
لڑنا سکھایا ہم نے جنہیں ظلمتوں کے ساتھ
ہم کو ڈرا رہے ہیں وہی امتحان سے
تنہائیاں ، اداسیاں ، برسوں کے رتجگے
نکلے گا میرے بعد یہی کچھ مکان سے
ہم ایسے لوگ اپنے ہی حق میں نہیں میاں
شکوے شکایتیں ہی رہیں مہربان سے
مجھ کو اٹھا کے دوست نشانے پہ رکھ ذرا
نکلا ہوا ہے تیر کسی کی کمان سے
پتھر بچارا موم تو ہونے سے اب رہا
کہنے کا کیا ہے کہہ دوں میں اپنی زبان سے
شاہد چراغ اپنا بجھانے کی دیر تھی
سب دوست اٹھ کے چل دیے ہیں درمیان سے
شاہد عباس ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے