اب کہاں سانحہ نہیں ھوتا؟

اب کہاں سانحہ نہیں ھوتا ؟
کون کس سےجُدا نہیں ھوتا
۔
تیرگی بے سبٌب نہیں صاحب!
شہرِ دل میں دیا نہیں ھوتا
۔
بے وفا ھیں تو بے وفا ہی سہی
ھر کوئی باوفا نہیں ھوتا
،
کوئی اسکا سبٌب تلاش کرو
کوئی یوں ہی خفا نہیں ھوتا
۔
اِسکے پیچھے کوئی کہانی ھے
کوئی اتنا بُرا نہیں ھوتا
۔
کیسے الزام ھم اُٹھاتے ھیں
جو سُنا وہ کہا نہیں ھوتا
۔
کہہ دیا ھوگاجانے کس رو میں
ھر جگہ حادثہ نہیں ھوتا
۔
دوستی، خواب، انتظار، خلوص
اِس میں کچھ بھی نیا نہیں ہوتا
۔
درد سے کوئی پوچھتا ھے بتول!
کیوں یہ دل سے جُدا نہیں ھوتا
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے