اب اس کے غم سے جو کوئی چاہے سو کھائے داغ

اب اس کے غم سے جو کوئی چاہے سو کھائے داغ
باقی نہیں ہے چھاتی میں اپنی تو جاے داغ
چشم و دل و دماغ و جگر سب کو رو رہے
اس عشق خانہ سوز نے کیا کیا دکھائے داغ
جی جل گیا تقرب اغیار دیکھ کر
ہم اس گلی میں جب گئے تب واں سے لائے داغ
کیا لالہ ایک داغ پہ پھولے ہے باغ میں
بہتیرے ایسے چھاتی پہ ہم نے جلائے داغ
کیا شیخ کے ورع میں تردد ہے ہم نے آپ
سو بار اس کے کرتے سے مے کے دھلائے داغ
آخر کو روے کار سے پردہ اٹھے گا کیا
مقدور تک تو چھاتی کے ہم نے چھپائے داغ
دل کی گرہ میں غنچۂ لالہ کے رنگ میر
سوز دروں سے کچھ نہیں ہے اب سواے داغ
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے