اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے

اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے
وہ نیند میں دوبارہ مری سیڑھیاں چڑھے

میں خوف کی مدد سے اسے اک چراغ دوں
وہ روشنی میں اس کو مصیبت کہا کرے

جملے کسیں علاقے کے اوباش اس پہ جب
میری قمیض پر وہ بٹن ٹانکنے لگے

میں بانسری کی دھن کے تعاقب میں چل پڑوں
وہ مجھ کو روکنے کے لیے مرثیہ پڑھے

ہم دونوں ایک دوجے سے واپس نہ آ سکیں
پانی گلاس ٹوٹنے پر چیختا رہے

کہتے ہیں جس زمیں کو مدینۃ الاولیاء
میں اس کو جانتا ہوں مناہل کے نام سے

میرے خدا تو میرے غلط نظریات پر
اب مسکرا بھی دے کہ مرا حوصلہ بڑھے

آرش وہ میرا عشق دلائل پہ چت ہوا
اندھے کا خواب چشم _تماشہ پہ کیا کھلے

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے