اب ہیں وہ نا مرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں

اب ہیں وہ نا مرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں

صدیوں سے سو رہے ہیں اور آنکھوں میں خواب بھی نہیں

دشت وفا میں پیاس کے خیمے کہاں لگائیں ہم

پانی تو بات دور کی کوئی سراب بھی نہیں

عشق نہیں نبھا سکا ہجر نبھا رہا ہوں میں

یعنی خراب ہوں مگر پورا خراب بھی نہیں

یوں میں ہوا ہوں رائیگاں عمر گزر گئی مگر

کوئی گناہ بھی نہیں کوئی ثواب بھی نہیں

مل کے ہیں بیٹھتے کہیں خوب نبھے گی دوستی

میں بھی ہوں بدحساب اور تیرا حساب بھی نہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے