Ab Faisla Karnay Ki

اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے

یا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائے

دیوانے ہیں ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں

ہم کو سر بازار یہ عزت دی جائے

پھر گرد مہ و سال میں اٹ جائیں گے

آئینہ بنایا ہے تو صورت دی جائے

اصرار ہی کرتے ہو تو اپنا سمجھو

دینا ہی اگر ہے تو محبت دی جائے

وہ جس نے مجھے قتل پہ اکسایا تھا

اس شخص سے ملنے کی بھی مہلت دی جائے

جب میری گواہی بھی مرے حق میں نہیں

پھر شہر میں کس کس کی شہادت دی جائے

ہم جاگتے رہنے کے بہت عادی ہیں

ہم کو شب ہجراں کی مسافت دی جائے

چھڑ جائے تو طبقات کی اب جنگ سلیمؔ

کچھ بھی ہو مگر ہم کو نہ زحمت دی جائے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے