اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے
میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑھی کو
آدھی دنیا گھوم چکا ہوں آدھی دنیا باقی ہے
کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں
پھر کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
اس کی خاطر بازاروں میں بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی
میں گم ہونے والا ہوں بس ہاتھ چھڑانا باقی ہے
ضیا مذکور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے