اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
عارضوں اور مصائب کا ایک ہجومِ بے کراں ہے جس سے بدن کی اینٹیں چٹخنے لگی ہیں ۔ مسلم علاقوں میں تباہی مچا دی گئی ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے 42 سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔ ہندو بلوائیوں نے قرآن مجید شہید کر ڈالے، مساجد کو آگ لگا دی اور ایک مسجد کے منار پر ہنومان کا جھنڈا لہرا کر اشوک نگر کو اشک نگر بنا ڈالا ۔ مسلمانوں کی آنکھوں میں سلاخیں سَروں میں ڈرل مشین تک چلا دی ہے ۔ بھارت کا یہ بھیانک چہرہ اچانک ہی نمودار نہیں ہوا ۔ گذشتہ 72 سالوں سے کشمیری اور بھارتی مسلمان، ہندو استبداد کا شکار ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اُوتے نپوتے ہیں ;238; کیا ہماری سیاست بانجھ ہو گئی ہے;238; کیا ہمارا میڈیا گونگے کا گُڑ کھا کر زبان کے ساتھ شعور کو بھی ساکت وجامد کروا بیٹھا ہے;238; کیا انسانی اقدار اپنا معیار کھو چکی ہیں ;238; کیا تہذیب وتمدّن کے معمار، انسانیت کے وقار کی مقدار اتنی پست اور قلیل کر چکے ہیں کہ گائے ذبح کرنے کے محض شبہے میں مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے اور دردوکرب میں ملفوف کوئی حروفِ احتجاج بلند کرنے والا بھی نہ ہو ۔ کوئی سرزنش، کوئی ڈانٹ ڈپٹ اور دھونس دھمکی کے لیے بھی لبوں کو جنبش دینے پر آمادہ نہ ہو ۔ کیا ہم نے خود سپردگی بلکہ خود اذیتی کی انتہاؤں کو چُھو لیا ہے;238; 72 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم خود کو بھارت کے ساتھ دوستی کی لت میں مبتلا رکھتے رہے ہیں ۔ ہم خود کو بڑے ذوق شوق کے ساتھ مذاکرات کی دراز زلفوں میں الجھاتے رہے ہیں ۔ آؤ! سچ بولیں ، آئیں اب موقع ہے کہ بھارتی ظلم کی ہنڈیا کو بیچ چوراہے میں پھوڑ ڈالیں ۔ قتیل شفائی نے کیا خوب کہا تھا ۔
سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقعِ اظہار، آؤ سچ بولیں
ابھی کچھ عرصہ قبل جھاڑ کھنڈ میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے ذبح کرنے کی پاداش میں دو مسلمانوں کو درخت پر لٹکا کر پھانسی دے دی تھی ۔ جنوبی بھارت کے علاقے کرناٹک میں ایک شہری اپنی وین میں گائے لے کر جا رہا تھا کہ محض اس’’جرم‘‘ کی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا تھا ۔ نئی دہلی میں محمد اخلاق نامی ایک مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے شبہے میں قتل کیا جا چکا ہے ۔ بھارت کی 29 میں سے 24 ریاستوں میں گائے ذبح کرنا جرم ہے ۔ جموں کشمیر مسلمانوں کا ہے مگر گائے ذبح کرنے پر قدغن عائد ہے ۔ 2011 میں گائے ذبح کرنے پر سات سال قید کی سزا تھی مگر بھارتی ریاست گجرات کی اسمبلی میں قانون سازی کی جا چکی ہے کہ گائے ذبح کرنے پر عمر قید کی سزا ہو گی ۔ شام سات سے صبح پانچ بجے تک گائے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے پر پابندی ہے ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں سبرا مینم سوامی نے راجیا سبھا میں ’’گاؤ تحفظ بل‘‘ بھی پیش کر دیا تھا کہ گائے کو ذبح کرنے پر موت کی سزا کا قانون بنایا جائے گا ۔ اس قانون کے بغیر بھی گائے ذبح کرنا تو دُور کی بات، محض اس کے شبہے پر ہی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ بجرنگ دَل کے شدّت پسند سہارن پور کے نعمان کو گائے ذبح کرنے کے جرم میں قتل کر چکے ہیں ۔
ہیومن راءٹس واچ بھی کہتی ہے کہ مودی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ اگر ایک جانور ذبح کرنا اتنا سنگین جرم ہے تو کسی انسان کے قتل کی سزا کتنی سخت ہونی چاہیے;238; ہندوگائے کو ماں بھی کہتا ہے اور اس کا دودھ تمام عمر پیتا ہے ۔ کیا وہ اپنی عمر کے ہر حصّے میں اپنی سگی ماں کا دودھ بھی پی سکتا ہے;238; وہ گائے کا پیشاب بھی نوش کرتا ہے، مگر اپنی سگی ماں کا پیشاب پینا پسند نہیں کرتا ۔ اسے آپ جملہ ئمعترضہ کہ لیجیے لیکن ہندوؤں کے کرداروعمل اور سوچ وفکر کے یہ تضادات اُن کی چھاتی پر سوالیہ نشان ضرور ثبت کرتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت قائدِ اعظم کے ساتھی مسلم سیاست دان ہندوؤں سے علاحدگی اور جدائی کے لیے قربانیاں دے رہے تھے ۔ اس کام کے لیے دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں مگر آج کے سیاسی زعما انھی ہندوؤں کے ساتھ یاری پالنے، دوستی اور تجارت کے مراسم قائم کرنے پر بہ ضد ہیں ۔
جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروبار
دوستو! وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں
اگر ہماری سیاست صاحبِ اولاد ہے، اگر ہماری فکروفن کی سطح پر کائی نہیں جم گئی اور اگر ملک وملت کے ساتھ ہماری وابستگی میں دراڑیں نہیں پڑ چکیں تو آئیے! میں سیکولر بھارت کی پوٹلی میں لپٹی محدود، متعفّن اور متعصّبانہ سوچ اور فکر کے درشن کرواؤں ۔ میں اس پوٹلی کا ذرا سا منہ کھولنے لگا ہوں ۔ الفاظ یہ ہیں کہ’’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو کوئی وندے ماترم کہنے میں پس وپیش کرے گا، جو کوئی بھارت کی جے کہنے میں دکھ محسوس کرے گا، جو کوئی گائے کو اپنی ماتا نہیں سمجھے گا اور جو کوئی گائے کو ہلاک کرے گا، میں اس کے ہاتھ پاؤں توڑ ڈالوں گا‘‘
شکستہ اور محدود سوچ پر مشتمل یہ الفاظ کسی عام شخص کے نہیں بلکہ بی جے پی کے وکرم سائنی کے منہ سے برآمد ہو چکے ہیں ۔ یقیناً ہم نپوت نہیں ، لاریب ہمارے بے شمار پُوت ہیں اور ان میں سے چند پُوت ہی کپُوت ہوں گے، باقی سارے سپُوت ہیں ۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کی کسی شعلہ نوائی اور ظلم وجبر کا تُرت جواب نہیں دیا جاتا;238; صادق حسین ایڈووکیٹ نے کیا خوب صورت اور نوید افزا اشعار کہے تھے ۔
تُو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے
یہ ہُوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
دہلی کے گلی کوچوں میں آج’’ہ میں بچا لو پاکستان‘‘کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ۔ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تو اپنی آنکھوں کے کُوئے اور پلکوں کی منڈیروں پر اشک سجا کر تو احساسِ زیاں کا ثبوت دے سکتے ہیں ۔
پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
مگر پتھر دلوں میں تو کسی ایک احساس کی بھی رمق پیدا نہیں ہوا کرتی ۔ اس لیے اے بھارتی اور کشمیری مسلمانو! ابھی تم جبرواستبداد کی چکّی میں پِستے رہو، ابھی ہ میں صدائیں مت دو! ابھی ہم بہت مصروف ہیں ، ابھی ہم نے سابق حکمرانوں سے لُوٹی ہوئی خطیر رقم واپس لینی ہے ۔ ہ میں تو ابھی مہنگائی کے عفریت کو بھی ختم کرنا ہے، ابھی تو ہم نیا پاکستان تخلیق کرنے میں بے حد مصروف ہیں ۔ ہم نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بھی تو دینے ہیں سو ابھی ہمارے پاس وقت کہاں ;238; ابھی ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کے خواب کو عملی شکل دینی ہے ۔ اے بھارتی اور کشمیری مسلمانو! ابھی ظلم سہتے رہو، ابھی بھارتی تشدّد کو برداشت کرتے رہو ۔
حیات عبداللہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے