آشوب

کیا آہ بھرے کوئی
جب آہ نہیں جاتی
دل سے بھی ذرا گہری
اور عرش سے کچھ اونچی
کیا نظم لکھے کوئی
جب خواب کی قیمت میں
آدرش کی صورت میں
کشکول گدائی کا
شاعر کو دیا جائے
اور روک لیا جائے
جب شعر اترنے سے
بادل سے ذرا اوپر
تاروں سے ذرا نیچے
کیا خاک لکھے کوئی
جب خاک کے میداں پر
انگلی کو ہلانے سے
طوفان نہیں اٹھتا
جب شاخ پہ امکاں کی
اس دشت تمنا میں
اک پھول نہیں کھلتا
رہوار نہیں رکتے
موہوم سی منزل پر
آنکھوں کے اشارے سے
اور نور کی بوندوں کی
بوچھاڑ نہیں ہوتی
اک نیلے ستارے سے
جب دل کے بلاوے پر
اس جھیل کنارے پر
پیغام نہیں آتا
اک دور کا باشندہ
اک خواب کا شہزادہ
گلفام، نہیں آتا
بستی میں کوئی عورت
راتوں کو نہیں سوتی
جاگی ہوئی عورت کی
سو‏ئی ہوئی قسمت پر
جب کوئی بھی دیوانہ
بے چین نہیں ہوتا
دہلیز کے پتھر سے
ٹکرا کے جبیں اپنی
اک شخص نہیں روتا
جب نیند کے شیدائی
خوابوں کو ترستے ہیں
اور دیکھنے کے عادی
بینائی سے ڈرتے ہیں
رہ رہ کے اندھیرے سے
آنکھوں میں اترتے ہیں
آنکھوں کے اجالوں سے
ان پھول سے بچوں سے
کہہ دو کہ نہ اب ننگے
پاؤں سے چلیں گھر میں
اس فرش پہ مٹی کے
اب گھاس نہیں اگتی
اب سانپ نکلتے ہیں
دیوار سے اور در سے
اب نور کی بوندوں سے
مہکی ہوئی مٹی میں
انمول اجالے کے
وہ پھول نہیں کھلتے
اب جھیل کنارے پر
بچھڑے بھی نہیں ملتے
بستی میں کوئی عورت
راتوں کو نہیں سوتی
اور جاگنے والوں سے
اب نظم نہیں ہوتی
کیا نظم لکھے کوئی
جب جاگنے سونے میں
پا لینے میں،کھونے میں
جب بات کے ہونے میں
اور بات نہ ہونے میں
کچھ فرق نہ رہ جائے
کیا بات کرے کوئی
ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے