آس ہو گی نہ آسرا ہو گا

آس ہو گی نہ آسرا ہو گا
آنے والے دنوں میں کیا ہو گا

میں تجھے بھول جاؤں گا اک دن
وقت سب کچھ بدل چکا ہو گا

نام ہم نے لکھا تھا آنکھوں میں
آنسووں نے مٹا دیا ہو گا

کتنا دشوار تھا سفر اس کا
وہ سر شام سو گیا ہو گا

پت جھڑوں کی کہانیاں پڑھنا
سارا منظر کتاب سا ہو گا

آسماں بھر گیا پرندوں سے
پیڑ کوئی ہرا گرا ہو گا

بشیر بدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے