آپ کے در پہ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں

آپ کے در پہ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں
ہاتھ اُٹھائے تھے دُعا کے لیے، اُٹھے ہوئے ہیں
خواب کب تھا وہ تو اِک نیند کا جھونکا تھا حضور!
آپ اَب تک اُسی اِک وہم میں اُلجھے ہوئے ہیں
مدّتوں بعد سہی ایک نظر دیکھ تو لو
ہم وہی ہیں جو ترے عشق کے سینچے ہوئے ہیں
وہ سمجھتا ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں اُس کے بغیر
ہم جسے عمرِ گزشتہ ہی سے بھولے ہوئے ہیں
دُشمنی ہے تو پھر اے دُشمنِ جاں وار بھی کر
تیر ترکش سے بہت ہم نے بھی کھینچے ہوئے ہیں
اِک طرف شامِ فراق، ایک طرف صبحِ وصال
درمیاں برف کے لمحے ہیں جو رِ ستے ہوئے ہیں
چھوڑیے دوسری باتوں کو ذرا یہ تو بتائیں
آپ ہم سے بھلا کس بات پہ رُوٹھے ہوئے ہیں
لہر در لہر اڑے جائیں گے، بہہ جائیں گے
ریگِ ساحل پہ جو دن پانی سے لکھے ہوئے ہیں
جمع کر کے سرِ دِل اپنے سبھی خواب و سراب
ہم نے اِک شخص کی تحسین کو بھیجے ہوئے ہیں
فرصتِ عرضِ محبت بھی کہاں باقی رہی
ہم تو بس درد کی سِ ل سینے پہ رکھے ہوئے ہیں
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے