آنکھوں کو موندے بیٹھے ہیں طائر مزاج ہم

آنکھوں کو موندے بیٹھے ہیں طائر مزاج ہم
شاہیں کے پیرہن میں کبوتر مزاج ہم
دُنیا کو دیکھنے کا الگ زاویہ ہے اپنا
ورنہ تَو آپ جیسے ہیں شاعر مزاج ہم
جائیں گے اِس کنارے سے دوجے کنارے تک
اپنے ہُنر میں طاق ، شناور مزاج ہم
گہرائیوں کا سوچ کے ملنا ہمارے ساتھ
وُسعت سے خوب لگتے ہیں ساگر مزاج ہم
نازک مزاج لوگ ہیں سب آس پاس اور
شیشہ مزاج شہر میں پتھّر مزاج ہم
حرص و ہوس کی قید میں رہتے ہیں رات دن
دُنیا کو بیچ کھائیں گے تاجر مزاج ہم
اپنے گنہ ثواب کی کوئی خبر نہیں
اوروں کو سوچتے ہیں محرّر مزاج ہم
باطن کا حُسن دیکھ کے نظروں کو پھیر کر
ظاہر میں ڈوب جائیں گے ظاہر مزاج ہم
تاریخ اپنے آپ کو دُہرائے گی سمیرؔ
سب کے غلام ذہن ، سکندر مزاج ہم
سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے