آنکھ اٹھی جس سمت چاروں اور ھے

آنکھ اٹھی جس سمت چاروں اور ھے
جوٹ استصال نفرت مکرو چاروں اورھے
چند ساہوکار قابض ہیں وسائل پر یہاں
بھوک بیماری وبا اور فقیری چاروں اور ھے
ہیں جہاں میں دو ہی قومیں اور دو ہی طرز فکر
ہے تشدد چار سو اور صبر چاروں اور ھے
عصمتیں سڑکوں پر لٹ جاے بہے نالوں میں خون
آمریت کا یہ کیسا امر جاری چاروں اور ھے
چند حق گویوں پہ لشکر کشی اور ظلم کی
کربلا دہرایں وبدر چاروں اور ھے
آگ اگل اب زمین کر رہی ہیں احتجاج
اور اشکوں کا خدیجہ ابر چاروں اور ھے
خدیجہ آغا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے