آنکھ اس مہ جبیں پہ رہنے دو

آنکھ اس مہ جبیں پہ رہنے دو
دیر تک پهر وہیں پہ رہنے دو
کس دریچے کو بند رکهنا ہے
یہ رضائے مکیں پہ رہنے دو
سر اٹهاو نہ میرے شانے سے
آسماں کو زمیں پہ رہنے دو
ہر لڑائی میں”اس” کو مت لاوء
اسکو عرشِ بریں پہ رہنے دو
اک نتیجہ بتاو تم ان کو
دوسرا سامعیں پہ رہنے دو
ساری دنیا گمان کو سونپو
ہم کو لیکن یقیں پہ رہنے دو
مت سمیٹو ہمارے کمرے کو
جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو
ڈاکٹر اسد نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے