Aankh sy Girty Hoye

آنکھ سے گرتے ہوئے اشک کا شک اُٹھتا ہے
آئنہ خانہ ء آزار چمک اُٹھتا ہے

ہر طرف بھیڑ ہے احسان فراموشوں کی
ظرف والوں سے میاں بارِ نمک اُٹھتا ہے

ہو نہ ہو روشنی بھی تیرگی کا پہلو ہو
آئنہ عکس کی جانب ہی لپک اُٹھتا ہے

تو پری زاد ہے میں جانتا ہوں خوابوں سے
تیری خوشبو سے مرا جسم مہک اُٹھتا ہے

راس آئی نہیں مجھ کو مری خوش فہمی بھی
میں جو اُٹھتا ہوں برابر یہ فلک اُٹھتا ہے

بے لباسی میں نہیں جسم کی حیرت لودھی
زخم پوشاک کے اندر بھی دہک اُٹھتا ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے