آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے
یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے
جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا
ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے
ذہن مرا آزاد ہے لیکن دل کا دل مٹھی میں
آدھا اس نے قید رکھا ہے آدھا چھوڑ دیا ہے
جہاں دعا ملتی تھی اللہ جوڑی سلامت رکھے
میں نے تیرے بعد ادھر سے گزرنا چھوڑ دیا ہے
چاروں شانے چت مٹی پر گرا پڑا ہوں تابشؔ
جانے کس نے دوسری جانب رسہ چھوڑ دیا ہے
عباس تابش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے