آنکھ کنارے خواب سمندر جاگے گا

آنکھ کنارے خواب سمندر جاگے گا
سینے میں اِک ڈوبتا منظر جاگے گا
خواب جگانے والا موسم اُس کا ہے
جو بھی ہاتھ پہ سُورج رکھ کر جاگے گا
سچّے سُر اور سچی آنکھیں رب جیسی
جب محسوس کرے گا پتھر، جاگے گا
گلیوں میں اب رات ٹہلنے اُترے گی
دِل میں پھر تنہائیوں کا ڈر جاگے گا
آنکھ سے اب پھر نیند کا جھگڑا ہونا ہے
حرف و خیال کے پاؤں میں چکّر جاگے گا
پلکیں اوڑھ کے سو جائے گا ہر منظر
اور اکیلا چاند فلک پر جاگے گا
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے