نہیں میرا آنچل میلا ہے

نہیں میرا آنچل میلا ہے

اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں

کسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے

تیری اجلی پیشانی پر

گئے دنوں کی کوئی گھڑی

پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی

اور میرے ماتھے کی سیاہی

تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی

اچھے لڑکے

مجھے نہ ایسے دیکھ

اپنے سارے جگنو سارے پھول

سنبھال کے رکھ لے

پھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیں

اور جگنو

پہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیں

چاہے اوڑھنی سے باہر کی دھوپ کتنی ہی کڑی ہو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے