عالمِ ارواح سے خوابوں میں آجاتی ہے ماں

عالمِ ارواح سے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
زندگی جب بھی ستائے مجھ کو یاد آتی ہے ماں
سرد راتیں کاٹتی ہے خوشدلی سے جاگ کر
گود میں لے کر جگر گوشے کو گرماتی ہے ماں
خشک بستر پر سلا دیتی ہے اپنے لعل کو
اور خود گیلی جگہ پر سُکھ سے سو جاتی ہے ماں
موت سے لڑ کر جنم دیتی ہے ننھا سا وجود
جان لیوا درد سہتی ہے تو کہلاتی ہے ماں
مسکراہٹ میں چھپا لیتی ہے ہر تکلیف کو
بھول کر سب رنج و غم بچوں کو بہلاتی ہے ماں
نیند کی وادی میں جاتا ہے خوشی سے شِیر خوار
لوریاں دیتے ہوئے جب پیار برساتی ہے ماں
بخشتی ہے نسلِ آدم کو دوامِ زندگی
دین و دنیا میں خدا کا روپ کہلاتی ہے ماں
غور سے سنتے ہیں بچے اس کی ہر اک بات کو
نرم لہجے میں نصیحت جب بھی فرماتی ہے ماں
یاد رہتی ہیں اسے بچوں کی سب اٹکھیلیاں
جب بھی گزرے وقت کو خوش ہو کے دہراتی ہے ماں
جب بھی ہاتھوں کو اٹھاتی ہے دعاؤں کے لئے
فرشِ خاکی سے مقامِ عرش تک جاتی ہے ماں
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے