آج

آج
ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیے
چاند، تاروں،بہاروں کے سپنے بنے
حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا
آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا
میں تمہارا مغنی تمہارے لیے
جب بھی آیا نئے گیت گاتا رہا
آج لیکن مرے دامنِ چاک میں
گردِ راہِ سفر کے سوا کچھ نہیں
میرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیا
تانیں چیخوں کے انبار میں ‌دب گئیں
اور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے
میں تمہارا مغنی ہوں، نغمہ نہیں ہوں
اور نغمے کی تخلیق کا سازو ساماں
ساتھیو! آج تم نے بھسم کر دیا ہے
اور میں اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامے
سرد لاشوں کے انبار کو تک رہا ہوں
میرے چاروں طرف موت کی وحشتیں ناچتی ہیں
اور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہے
بربریت کے خوں خوار عفریت
اپنے ناپاک جبڑوں کو کھولے
خون پی پی کے غرا رہے ہیں
بچھے ماؤں کی گودوں میں سہمے ہوئے ہیں
عصمتیں سر برہنہ پریشان ہیں
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے
اور میں اس تباہی کے طوفاں میں
آگ اور خوں کے ہیجان میں
سرنگوں‌اور شکستہ مکانوں کے ملبے سے پر راستوں پر
اپنے نغموں کی جھولی پسارے
دربدر پھر رہا ہوں!
مجھ کو امن اور تہذیب کی بھیک دو
میری گیتوں کی لے، میرا سر ، میری نے
میرے مجروح ہونٹوں کو پھر سونپ دو
ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیے
انقلاب اور بغاوت کے نغمے الاپے
اجنبی راج کے ظلم کی چھاؤں میں
سرفروشی کے خوابیدہ جذبے ابھارے
اور اس صبح کی راہ دیکھی!
جس میں‌اس ملک کی روح آزاد ہو
آج زنجیر محکومیت کٹ چکی ہے
اور اس ملک کے بحر و بر بام و در
اجنبی قوم کے ظلمت افشاں پھریرے کی منحوس چھاؤں سے آزاد ہیں
کھیت سونا اگلنے کو بے چین ہیں
وادیاں لہلہانے کو بے تاب ہیں
کوہساروں کے سینے میں ہیجان ہے
سنگ اور خشت بے خواب و بیدار ہیں
ان کی آنکھوں میں‌تعمر کے خواب ہیں
ان کے خوابوں‌کو تکمیل کا روپ دو
ملک کی وادیاں، گھاٹیاں، کھیتیاں
عورتیں ‌بچیاں
ہاتھ پھیلائے خیرات کی منتظر ہیں
ان کو امن اور تہذیب کی بھیک دو
ماؤں کو ان کے ہونٹوں کی شادابیاں
ننھے بچوں کو ان کی خوشی بخش دو
مجھ کو میرا ہنر میری لے بخش دو
آج ساری فضا ہے بھکاری
اور میں اس بھکاری فضا میں
اپنے نغموں کی جھولی پسارے
دربدر پھر رہا ہوں
مجھ کو پھر میرا کھویا ہوا ساز دو
میں تمہارا مغنی تمہارے لیے
جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہوں گا
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے