فروری 5, 2023
Shoib Shobi
شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل

آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں
سامنا ہو سب سے ایسی کسی جگہ لکھوں

ہے عجب روش پہ معمور زندگی مری
اب عجب سفر کے بابت بتا میں کیا لکھوں

جانتے نہیں ہو تم اپنے اک بھی وعدے کو
بے وفا کہوں کہ اب بھی میں اپنی جاں لکھوں

زندگی تری ڈگر پر ملال ہے مجھے
فیصلے جو ارماں ہیں بن گئے کہاں لکھوں

اک بشر کو چاہا شوبیؔ وہ ہی ملا نہیں
زندگی کو اب میں نادر کہ رائیگاں لکھوں

شعیب شوبی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے