آئینہ توڑ دے رِہا کر دے

آئینہ توڑ دے رِہا کر دے
بے وفا! اِک یہی وفا کر دے
رشتۂ درد توڑ دے دل سے
رنگ کو پھول سے جدا کر دے
زندگی بھر تجھی کو چاہا ہے
قرض کچھ تو مرا ادا کر دے
دے رہا ہے زکوٰۃ حُسن اگر
مرے حق سے ذرا بڑھا کر دے
مدّتیں ہو گئیں تجھے دیکھے
اَب تو ملنے کا سلسلہ کر دے
پھر کوئی گُل کھلے سرِ مژگاں
پھر درِ خواب کوئی وا کر دے
اِک ستارے کو بخش کر مرے خواب
پھر اُسے میرا آئینہ کر دے
بیٹھتا جا رہا ہے جاں کا غبار
اب اسے مجھ سے ماورا کر دے
اے فقیرِ دیارِ لیلیٰ جاں!
مرے حق میں بھی کچھ دعا کر دے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے