Aah Sunn Ky Jalay Hoye

آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!

کانپ اٹھی لَو فراخِی دل کی

بے کھلا پھول توڑنے والے

یہ تو تصویر ہے مرے دل کی

یا تو بھولا ہے نا خدا رستہ

یا حدیں ہٹ گئیں ہیں ساحل کی

وہ جو اب آئنے میں دیکھتے ہیں

خیر ہو چوٹ ہے مقابل کی

میری کشتی کا رخ بدلنے دو

موج لے لے گی پناہ ساحل کی

راہبر خود بھٹک گئے رستہ

ہو قمر خیر اب تو منزل کی

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے