آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
حیات عبداللہ

میں مانتا ہوں کہ محبتیں بعض اوقات بڑا کڑا امتحان لیتی ہیں مگر محبتوں میں اتنی سخت کوشی اور سخت جانی تو تاریخ کے اوراق پر بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔جذبات واحساسات میں اس قدر صداقت اور استقامت کی طغیانی کہ ایک لاکھ کے قریب جانی‍ں قربان کر کے بھی چاہتوں کے بہتے اس دھارے میں کمی آئی نہ کجی۔کاش! ہماری سیاست، کشمیریوں کی محبت کی عظمت اور رفعت کو سمجھ سکتی کہ وہ ہمارے ساتھ وصال کے خواب اپنی پلکوں پر سجائے بیٹھے ہیں۔
اک تمھارے خیال میں ہم نے
جانے کتنے خیال چھوڑے ہیں
72 سال بیت چلے، کشمیریوں پر کالے قوانین نافذ کر کے ظلم وستم کا ایک خونیں سلسلہ جاری ہے۔ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔گذشتہ 30 سالوں سے تو ظلم وجبر کے اس بھیانک سلسلے نے انتہاؤں کو چھو لیا ہے۔ کشمیری لوگوں کے دلوں میں ٹھاٹھیں مارتے ان جذبوں کی حدّت کو دیکھ کر شاید پتھریلی آنکھوں میں بھی آنسو اتر آئیں۔وہ بیس بیس سالوں سے جیلوں میں بند اذیتوں کے طوفان سے گزر رہے ہیں مگر آج تک کوئی سفاک ظلم اور کوئی ناپاک حربہ اُن کے سینوں میں موجزن اس محبت کی استقامت کو کم نہ کر سکا۔
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
آفرین ہے کشمیری ماؤں اور بہنوں پر جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو پال پوس کر کشیمر پر قربان کر دیتی ہیں اور پھر اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر سجدے میں گر کر اللہ کا شُکر بھی ادا کرتی ہیں۔اہلِ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبتوں جیسی سحر انگیزی تو کسی لوک کہانی یا کسی مبالغہ آمیز فرضی داستان میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔بے ضمیری کی حدود کو چُھوتی بے حسی تو ہماری سیاسی بساط پر چھائی ہے، جہاں بے رخی اور بے اعتنائی، بے وفائی کی حد تک جا پہنچی ہے۔کشمیر کے بچّے ہوں یا جوان، وہاں کے بزرگ ہوں یا خواتین، سب کی زبانوں پر بھارت کے خلاف نعرے ہیں۔وہ اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھام کر” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔اس جدید گلوبل ویلج کے باسیوں کو بھارتی الیکشن ڈرامے تو دکھائی دے جاتے ہیں مگر لاکھوں انسانوں کے ہجوم کے دل اور زبان سے نکلتی ہوئی صدائیں سنائی نہیں دیتں۔قائدینِ آزادی کو پاکستان کے حق میں نعرے لگانے پر پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قائدین اکیلے ہی نعرہ زن ہوتے ہیں؟ نہیں.. ایسا تو نہیں ہے۔لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔کیا ایسے ہجوم بھارتی الیکشن ڈراموں کا پول نہیں کھول دیتے؟ کیا جمہوریت پسندوں کو لاکھوں انسانوں کی صدائیں سنائی نہیں دیتیں؟ کیا ہزاروں انسانوں کے ہجوم بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے سے زیادہ مؤثر نہیں ہیں؟ مگر یہ تمام المناک صدائیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سماعتوں سے نہیں ٹکراتیں۔بھارتی فوج اسلحے کے زور پر بھی لوگوں کا ایسا جمِ غفیر جمع نہیں کر سکتی۔تاحدِ نظر پھیلے کشمیری لوگوں کے ہجوم ببانگِ دہل” پاکستان سے رشتہ کیا.. لا الہ الا للہ “کے نعرے لگاتے ہیں۔یہ حقیت ہے کہ کشمیری لوگوں کے دلوں کی خواہشوں کو آنسو گیس نہیں روک سکتی۔اُن کے دلوں میں پاکستان کے لیے ٹھاٹھیں مارتی محبتوں کو بندوقوں کی گولیوں سے کم نہیں کیا جا سکتا۔کوئی جبرواستبداد اُن کے دلوں سے اہلِ پاکستان کے لیے عزت وتکریم کے بے کراں جذبوں کو کمزور نہیں کر سکتا۔جب کشمیری لوگ اپنے شہدا کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، بھارتی سیاست دانوں کی چھاتی میں چُھرے پیوست ہو جاتے ہیں۔
بھارتی مظالم پر آج انسانیت چیخ اٹھی ہے۔ایک لاکھ کے قریب لوگوں سے زندگی چھین لینا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔جمہوریت کے دعوے داروں اور انسانی حقوق کے پاسبانوں نے آٹھ لاکھ سے زائد فوج محض اس لیے تعیینات کر رکھی ہے کہ کشمیریوں کے دل سے آزادی کی روشن شمع کو بجھا سکیں۔اہلِ کشمیر کے دل ودماغ سے پاکستان کی محبت کو ختم کرنے کر ڈالیں، مگر دل تو کیا وہ آج تک کشمیری لوگوں کی زبانوں سے” پاکستان زندہ باد“ کی صداؤں کے سامنے بھی بند نہیں باندھ سکے۔وہ کشمیری ماؤں بہنوں کے ہاتھوں سے پاکستانی پرچم سَر نِگوں نہ کروا سکے۔ظلم سے لدے 72 سال گزر چکے مگر جذبہ ء حریت آج تک ماند نہ پڑا تو اب کون سا ظلم باقی رہ گیا ہے جس کے کارن ان جذبوں کو شکست دے دی جائے گی۔احمق بھارتی فوجیوں کو تو پتا ہی نہیں کہ قربانیوں سے آزادی کی شمعیں مزید روشن ہوتی چلی جایا کرتی ہیں۔جبروجور سے تو جذبہ ءآزادی کو مزید تقویت اور جِلا ملا کرتی ہے۔بھارتی فوج کو کشمیر میں قتل وغارت گری کی کُھلی چُھٹی ہے۔ دس ہزار سے زائد نوجوانوں کا پتا ہی نہیں کہ بھارتی فوج نے اُنھیں کہاں غائب کر دیا؟
آج مقبوضہ وادی میں 6 ہزار سے زائد گمنام قبریں موجود ہیں۔معلوم نہیں ان قبروں میں آزادی کے کون کون سے متوالے سپوت دفن ہیں؟ ان بے نام قبروں میں دفن لوگ پاکستان کی محبت کے چراغ اپنے دلوں میں روشن کیے شہادت کے اعلی رتبوں پر فائز ہو گئے؟
نکہتِ بادِ بہاری کب کی رخصت ہو گئی
آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
ساری دنیا ہے مخالف ہم اکیلے پڑ گئے
یا الہی اپنی نصرت بھیج تُو کشمیر میں
بھارتی حکومت متعدد بار کُھل کر اعلان کر چکی ہے کہ اگر بھارت میں ممبئی طرز کا حملہ ہوا تو جواب میں دہشت گردوں کو استعمال کریں گے تا کہ بھارتی فوج کو یہ کام نہ کرنا پڑے۔گویا بھارتی حکومت کے دہشت گردوں سے قریبی مراسم ہیں۔دہشت گردوں سے رابطے دہشت گردوں ہی کے ہوا کرتے ہیں۔بھارت کی موجودہ حکومت ظلم وجبر کی ہر حد سے گزر چکی ہے۔ بھارت یاد رکھے کہ اسے ان گمنام قبروں میں دفن ایک ایک ظلم کا حساب دینا ہو گا۔بھارتی فوج سن لے کہ اہلِ کشمیر کے پور پور اور انگ انگ پر لگائے گئے ہر ایک گھاؤ کا حساب بہی کھاتے میں جمع ہوتا چلا جا رہا ہے۔بھارتی نیتاؤں اور سیناؤں سے درد کی ایک ایک لہر اور ٹِیس کا بدلا لیا جائے گا۔بھارتی حکومت نے جتنے کرب ان لوگوں کی رگ وپے میں گھونپے ہیں، ان سب کا حساب برابر ضرور ہو گا ان شاءاللہ۔
بھارت کے دل میں پاکستان دشمنی اور عداوت کے جوار بھاٹے آج ابلنا نہیں شروع ہوئے بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت سے یہ دشمنی موجود ہے۔1965 کی جنگ میں شکست کے بعد بھارتی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ”پاکستان اور بھارت کے درمیان اسی دن مخاصمت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، جس دن پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آئیڈیالوجی کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف اور دشمنی ہفتے بھر کی نہیں بلکہ سالہاسال تک رہے گی، اس لیے بھارت کو ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے“بھارت اس جنگ کے لیے تیار ہو یا نہ ہو البتہ ہماری ماؤں نے ایسے سپوت ضرور پیدا کر کے پاک فوج میں بھیج دیے ہیں جو بھارت کو کسی بھی قسم کا سبق سکھانے کی بھر پور جراَت رکھتے ہیں۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے