آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر

آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر
تنہا تو تڑپنے سے بچا لے کوئی آ کر
صحرا میں اُگا ہوں کہ مری چھاؤں کوئی پائے
ہلتا ہوں کہ پتوں کی ہوا لے کوئی آ کر
بِکتا تو نہیں ہوں، نہ مرے دام بہت ہیں
رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا لے کوئی آ کر
کشتی ہوں مجھے کوئی کنارے سے تو کھولے
طوفاں کے ہی کر جائے حوا لے کوئی آ کر
میرے کسی احسان کا بدلہ نہ چکائے
اپنی ہی وفاؤں کا صلہ لے کوئی آ کر
اتنا تو ہو، پتھرائے ہوئے اشک پگھل جائیں
اپنا ہی مجھے درد سنا لے کوئی آ کر
گر جائیں نہ جاگی ہوئی راتیں مرے سرسے
تھوڑا سا تو یہ بوجھ اٹھا لے کوئی آ کر
سر کو نہ عدیم آ کے کوئی شخص سنبھالے
دیوار ہی کو گرنے سے بچا لے کوئی آ کر
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے