آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں

آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں
سوچتا ہوں کہ اُدھورے کو مکمل کر دوں

دیکھتے ہیں جو تماشا مرے پاگل پن کا
کیا تماشا ہو اگر ان کو بھی پاگل کر دوں

اب تو سوچا ہے تری آنکھ میں رہنے کے لیے
جسم کو راکھ کروں اور ترا کاجل کر دوں

جانور سا کوئی مجھ میں مجھے اُکساتا ہے
دشت کو شہر کروں، شہر کو جنگل کر دوں

تجھ کو یہ زعم کہ تصویر ترے دم سے ہے
اور اگر میں تجھے تصویر میں اوجھل کر دوں

نعمت ِ غم پہ کیا شکر تو مالک نے کہا
تُو کہے تو میں یہ انعام مسلسل کر دوں

آخری بار اُسے ملنا ہے بچھڑنے کے لیے
سوچتا ہوں کہ ملاقات معطل کر دوں

جی میں آتا کہ صندوق میں رکھوں دنیا
اور صندوق ہمیشہ کو مقفل کر دوں

رتجگوں سے تو کرامات ہیں مجھ میں شاہد
بستر ِ سنگ میں کیوں بستر ِ مخمل کر دوں

شاہد ذکی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے