اے ساعتِ وصال ، مرے دن گزر گئے

اے ساعتِ وصال ، مرے دن گزر گئے
اے یارِ خوش جمال ، مرے دن گزر گئے
ذرّے کی حیثیت تو نہیں کائنات میں
پھر بھی ہوا ملال ، مرے دن گزر گئے
چاہا تھا خوابِ زندگی مل کر گزار لیں
آیا مگر خیال ، مرے دن گزر گئے
صد حیف صبح و شام کہ میں رائیگاں رہی
افسوس ماہ و سال ، مرے دن گزر گئے
بس تجھ کمی کا کوئی ازالہ نہ ہو سکا
کیا پوچھتا ہے حال ، مرے دن گزر گئے
اُڑتی ہے سوئے دشت مری نامراد خاک
مجھ کو خدا سنبھال ، مرے دن گزر گئے
بے سود کی تھکان ، مرا جی اُچٹ گیا
بیکار کی دھمال ، مرے دن گزر گئے
میں نے بساطِ عمر پہ رکھے جونہی قدم
چل دی سمے نے چال ، مرے دن گزر گئے
پیوستِ جسم و جان ہے اک دردِ بے دوا
واماندہ و نڈھال ، مرے دن گزر گئے
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے