آبِ گُم – شہر دو قصہ​

آبِ گُم – شہر دو قصہ​
(A Tale of Two Cities) کی الٹ۔ یعنی قصہ دو کہانیوں والے شہر کا

کھنڈر میں چراغاں​

کم و بیش پینتالیس برس کا ساتھ تھا۔ نصف صدی ہی کہیے۔ بیوی کے انتقال کے بعد بشارت بہت دن کھوئے کھوئے سے، گُم صُم رہے۔ جیسے انہوں نے کچھ گم نہ کیا ہو، خود گم ہو گئے ہوں۔ جوان بیٹوں نے میت لحد میں اتاری، اس وقت بھی وہ صبر و ضبط کی تصویر بنے، تازہ کھدی ہوئی مٹی کے ڈھیر پر خاموش کھڑے دیکھا کیئے۔ ابھی ان کے بٹوے میں مرحومہ کے ہاتھ کی رکھی ہوئے الائچیاں باقی تھیں۔ اور ڈیپ فریزر میں اس کے ہاتھ کے پکائے ہوئے کھانوں کی تہیں لگی تھیں۔ کروشیے کی جو ٹوپی وہ اس وقت پہنے ہوئے تھے وہ اس جنتی بی بی نے چاند رات کو دو بجے مکمل کی تھی تا کہ وہ صبح اسے پہن کر عید کی نماز پڑھ سکیں۔ سب مٹھی بھر بھر کے مٹی ڈال چکے اور قبر گلاب کے پھولوں سے ڈھک گئی تو انہوں نے مرحومہ کے ہاتھ کے لگائے ہوئے موتیاکی چند کلیاں جن کے کھلنے میں ابھی ایک پہر باقی تھا، کُرتے کی جیب سے نکال کر انگارہ پھولوں پر بکھیر دیں۔ پھر خالی خالی نظروں سے اپنا مٹی میں سنا ہوا ہاتھ دیکھنے لگے۔ اچانک ایک ایسا سانحہ ہو جائے تو کچھ عرصے تک تو یقین ہی نہیں‌ آتا کہ زندگی بھر کا ساتھی یوں آناً فاناً بچھڑ سکتا ہے۔ نہیں۔ اگر وہ سب کچھ خواب تھا تو پھر یہ بھی خواب ہی ہو گا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ابھی یہیں کسی دروازے سے مسکراتی ہوئی آ نکلے گی۔ رات کے سناٹے میں کبھی کبھی تو قدموں کی مانوس آہٹ اور چوڑیوں کی کھنک تک صاف سنائی دیتی۔ اور وہ چونک پڑتے کہ کہیں آنکھ تو نہیں جھپک گئی تھی۔ کسی نے ان کی آنکھیں نم نہیں دیکھیں۔ اپنوں بیگانوں سبھی نے ان کے صبر و استقامت کی داد دی۔ پھر اچانک ایک واشگاف لمحہ آیا کہ یکلخت یقین آ گیا۔ پھر سارے پندار پشتے اور سارے آنسو بند اور تمام صبر فصیلیں ایک ساتھ ڈھے گئیں۔ وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئے۔

لیکن ہر رنج رفتنی ہے اور ہر عیش گزشتنی۔ جیسے اور دن گزر جاتے ہیں یہ دن بھی گزر گئے۔ قدرت نے بقول لاروش فو کو کچھ ایسی حکمت رکھی ہے کہ انسان موت اور سورج کو زیادہ دیر ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھ سکتا۔ رفتہ رفتہ صدمے کی جگہ رنج اور رنج کی جگہ اداس تنہائی نے لے لی۔ میں جب میامی سے کراچی پہنچا تو وہ اسی دور سے گزر رہے تھے۔ بے حد اداس۔ بے حد تنہا۔ بظاہر وہ اتنے تنہا نہیں تھے جتنا محسوس کرتے تھے۔ مگر آدمی اتنا ہی تنہا ہو تا ہے۔ جتنا محسوس کرتا ہے۔ تنہائی آدمی کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ جدھر نظر اٹھاتا ہے، آئینے کو مقابل پاتا ہے۔ اسی لیے وہ تنہائی یعنی اپنی ہی صحبت سے گریز کرتا اور ڈرتا ہے۔ تنہا آدمی کی سوچ اس کی انگلی پکڑ کے کشاں کشاں ہر چھوڑی ہوئی شاہراہ، ایک ایک پگڈنڈی، گلی کوچے اور چوراہے پر لے جاتی ہے۔ جہاں جہاں راستے بدلے تھے اب وہاں کھڑے ہو کر انسان پر منکشف ہوتا ہے کہ درحقیقت راستے نہیں بدلے انسان خود بدل جاتا ہے۔ سڑک کہیں نہیں جاتی۔ وہ تو وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ مسافر خود کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ راہ کبھی گم نہیں ہوتی۔ راہ چلنے والے گم ہو جاتے ہیں۔

پیری میں، پرانی ضرب المثل کے مطابق، صد عیب ہوں یا نہ ہوں، ایک عیب ضرور ہے جو سو عیبوں پر بھاری ہے۔ اور وہ ہے ناسٹلجیا۔ بڑھاپے میں آدمی آگے یعنی اپنی منزلِ نامقصود و ناگزیر کی جانب بڑھنے کے بجائے الٹے پیروں اس طرف جاتا ہے جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا۔ پیری میں ماضی اپنی تمام مہلک رعنائیوں کے ساتھ جاگ اٹھتا ہے۔ بوڑھا اور تنہا آدمی ایک ایسے کھنڈر میں رہتا ہے جہاں بھری دوپہر میں چراغاں ہوتا ہے اور جب روشنیاں بجھا کے سونے کا وقت آتا ہے تو یادوں کے فانوس جگمگ جگمگ روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی روشنی تیز ہوتی ہے، کھنڈر کی دراڑیں، جالے اور ڈھنڈار پن اتنے ہی زیادہ اجاگر ہوتے جاتے ہیں۔

سو ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔

آبِ گُم – شہر دو قصہ
ماضی تمنائی اور برزخِ گم گشتہ​

کراچی میں اللہ نے انہیں اتنا دیا کہ خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔ اپنے مالوف و متروکہ دیار کانپور جانے کی انھیں کبھی خواہش نہیں‌ ہوئی۔ مگر اس سانحے کے بعد یگبارگی ایک ہوک سی اٹھی اور انہیں کانپور کی یاد بے تحاشا ستانے لگی۔ اس سے پہلے ماضی نے ان کے وجود پر یوں پنجے گاڑ کر قبضہ نہیں جمایا تھا۔ حال سے گریزاں، حاضر و موجود سے منحرف، مستقبل سے مستغنٰی۔ اب وہ صرف ماضی میں جی رہے تھے۔ حال میں کوئی خاص خرابی نہیں تھی۔ بجز اس کے کہ بوڑھے آدمی کے حال کی سب سے بڑی خرابی اس کا ماضی ہوتا ہے جو بھلائے نہیں بھولتا۔

اک عمر سے ہوں لذتِ نسیاں سے بھی محروم

ہر واقعے، بلکہ ساری زندگی کی فلم الٹی چلنے لگی۔ جٹا دھاری برگد کرودھ میں آ کر، پھننگ کے بل اپنی بھجنگ جٹائیں اور پاتال جڑیں آسمان کی طرف کر کے سیس آسن میں الٹا کھڑا ہو گیا۔ پینتیس برس بعد انہوں نے اپنے برذخِ گم گشتہ کانپور جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ گلیاں، بازار، محلے، آنگن، چارپائی تلے ادھورے چھڑکاؤ سے رات گئے تک جوان پنڈے کی طرح سلگتی چھتیں۔ وہ دوانی خواہشیں جو رات کو خواب بن بن کے آئیں اور وہ خواب جو دن میں سچ مچ خواہش بن جاتے۔ سب ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔ حد یہ کہ وہ اسکول بھی جنت کا ٹکڑا معلوم ہونے لگا، جس سے بھاگنے میں اتنا مزہ آتا تھا۔ سب مزوں، سب یادوں نے یکبارگی یورش کر دی۔ دوستوں سے چرچرائی چارپائیاں اور ہری بھری نبولیوں سے لدے پھندے نیم کی چھاؤں، آموں کے بور اور مہوے کی مہکار سے بوجھل پروا، املی پر گدرائے ہوئے کتارے اور انہیں للچائی نظروں سے دیکھتی لڑکیاں اور انہیں ویسی ہی نظروں سے دیکھتے ہوئے لڑکے، ہرنوں سے بھرے جنگل، چھرے سے زخمی ہو کر دو تین سو فٹ کی بلندی سے گد سے گرتی ہوئی مرغابی، خس کی ٹٹیاں، سنگھاڑوں سے پٹے تالاب، گلے سے پھسلتا مخمل فالودہ، مولسری کے گجرے، گرمیوں کی دوپہر میں جامن کے گھنے پتوں میں چھپے ہوئے گرگٹ کی لپلپاتی مہین زبان، اپنے چوکنے کانوں کو ہوا کے رخ کے ساتھ ٹیون کیے ٹیلے پر تنہا کھڑا ہوا بارہ سنگھا، امڈ گھمڈ جوانی اور پہلے پیار کی گھٹا ٹوپ اداسی، وہ صندل باہیں جو سوتے جاگتے تکیہ تصور تھیں، تازہ کلف لگے دوپٹے کی کراری مہک، دھوم مچاتے دوست – ماضی کے کوہِ ندا سے ایسے بلاوے، ایسی صدائیں آنے لگیں کہ

ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی

وہ اب بچے نہیں رہے تھے، ہمارا مطلب ہے ستر سے متجاوز تھے۔ لیکن انہیں ایک لحظے کے لیے بھی یہ خیال نہ آیا کہ یہ تمام رنگین اور رومینٹک چیزیں – جنہیں مرزا عبدالودود بیگ آلاتِ کشادرزی کی مناسبت سے “ عہد شباب کے آلاتِ خلاف ورزی “ کہتے ہیں – جہیں یاد کر کر کے وہ سو سو decibel کی آہیں بھرنے لگے تھے، پاکستان میں نہ صرف بافراط بلکہ کہیں بہتر کوالٹی کی دستیاب تھیں۔ ہاں صرف ایک شے پاکستان میں مفقود تھی۔ اور وہ تھی ان کی جوانی۔ سو وہ بعد تلاشِ بسیار و بے سود کانپور میں بھی نہ ملی۔

آبِ گُم – شہر دو قصہ
یہ بچے کتنے بوڑھے ہیں، یہ بوڑھے کتنے بچے ہیں​

انھوں نے اپنے نارتھ ناظم آباد والے گھر کے سامنے مولسری کا درخت لگانے کو تو لگا لیا، لیکن یادوں کی مولسری کی بھینی بھینی مہک، بچپن اور چھب چھاؤں کچھ اور ہی تھی۔ اب وہ انواع و اقسام کے پھول کہاں کہ ہر پھول سے اپنی ہی خوشبو آئے۔ ان پر بھی وہ مقام آیا جو بڑھاپے کے پہلے شب خون کے بعد ہر شخص پر آتا ہے، جب دفعتاً اس کا جی بچپن کی دنیا کی ایک جھلک – آخری جھلک – دیکھنے کے لیے بےقرار ہو جاتا ہے۔ لیکن اسے کہ علم نہیں ہوتا کہ بچپن اور بڑھاپے کے درمیان کوئی غیبی ہاتھ چپکے سے سو گنی طاقت کا magnifier (محدب عدسہ) رکھ دیتا ہے۔ دانا کبھی اس شیشے کو ہٹا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے ہٹتے ہی ہر چیز خود اپنا miniature (تصغیر) معلوم ہونے لگتی ہے۔ کل کے دیو بالکل بالشتیے نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے بچپن کے locale (جائے ورود و واردات) سے عرصہ دراز تک دور رہا ہے تو اسے ایک نظر آخری بار دیکھنے کے لیے ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ لیکن وہ جاتا ہے۔ وہ منظر اسے ایک طلسمی مقناطیس کی مانند کھنچتا ہے اور وہ کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ طفلِ طلسمات پر جہاں دیدہ آنکھ پڑ جائے تو سارے طلسم ٹوٹ جاتے ہیں۔ بہروپ نگر کی ساری پریاں اُڑ جاتی ہیں اور شیش محل پر کالک پت جاتی ہے۔ اور اس جگہ تو اب مقدس خوشبوؤں کا دھواں ہی دھواں ہے۔ یہاں جو کام دیو کی دہکتی دھنک کمان ہوا کرتی تھی وہ کیا ہوئی؟

یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے؟
وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی؟

آدمی کو کسی طرح اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ وہ رُوپ سُروپ کیا ہوا؟ وہ چہکار مہکار کہاں گئی؟ نہیں۔ یہ تو وہ اوراق مصور کوچے اور بازار نہیں جہاں ہر چیز اچنبھا لگتی تھی۔ یہ ہر چیز، ہر چہرے کو کیا ہو گیا؟

Was this the face that launch’d a thousand ships?

? And burnt the topless towers of llium

جس گھڑی یہ طلسم ٹوٹتا ہے، ماضی تمنائی کی خواب سرا ڈھے جاتی ہے۔ پھر اس شخص کا شمار نہ بچوں میں ہوتا ہے، نہ بوڑھوں میں۔ جب یہ مقام آتا ہے تو آنکھیں یکایک “ کلر بلائینڈ “ ہو جاتی ہیں۔ پھر انسان کو سامنے ناچتے مور کے صرف پیر دکھائی دیتے ہیں اور وہ انہں دیکھ دیکھ کے روتا ہے، ہر سُو بے رنگی اور بے دلی کا راج ہوتا ہے۔

بے حلاوت اس کی دنیا اور مذبذب اس کا دیں

آبِ گُم – شہر دو قصہ
جس شہر میں بھی رہنا، اُکتائے ہوئے رہنا​
سو اس طفل بزرگ نے کانپور جا کر بہت گریہ کیا۔ پینتیس برس تک تو اس پر رویا کیے کہ ہائے، ایسی جنت چھوڑ کر کراچی کیوں آ گئے۔ اب اس پر روئے کہ لاحول ولا قوۃ اس سے پہلے ہی چھوڑ کی کیوں نہ آ گئے۔ خواہ مخواہ عمر عزیز کی ایک تہائی صدی غلط بات پر رونے میں گنوا دی۔ رونا ہی ضروری تھا تو اس کے لیے 365 معقول وجوہات موجود تھیں، اس لیے کہ سال میں اتنی ہی مایوسیاں ہوتی ہیں۔ اپنی “ ڈریم لینڈ “ کا چپہ چپہ چھان مارا، لیکن

وہ لہر نہ پھر دل میں جاگی، وہ رنگ نہ لوٹ کے پھر آیا

پینتیس برس پرانا ناسٹلجیا یکایک ٹوٹا تو ہر جگہ اجاڑ اور ہر شے کھنڈر نظر آئی۔ حد یہ کہ جس مگر مچھ بھرے دریا میں کہ جس کا اور نہ چھور، وہ فلک بوس برگد کی پھننگ سے بے خطر چھلانگ لگا دیا کرتے تھے، اب اسے جا کر پاس سے دیکھا تو ایک مینڈک بھر برساتی نالا نکلا۔ اور وہ جبر جنگ برگد تو نرا بونسائی پیڑ لگ رہا تھا۔

ماضی کے دشتِ بازگشت میں وہ اپنے ہمزاد کا خیمہ زنگار گوں نہ پہچان پائے۔

آبِ گُم – شہر دو قصہ
کبوتر خانے کا چربہ​
یونانی کورس (Greek Chorus) بہت فلسفہ چھانٹ چکا۔ اب اس کہانی کو خود اس کے ہیرو بشارت کی زبانی سنیے کہ اس کا مزہ ہی کچھ اور ہے‌ :

یہ افسانہ اگرچہ سرسری ہے
ولے اس وقت کی لذت بھری ہے

صاحب، میں تو اپنا مکان دیکھ کے بھونچکا رہ گیا کہ واللہ، ہم اس میں رہتے تھے، اور اس سے زیادہ حیرانی اس پر کہ بہت خوش رہتے تھے، مڈل کلاس غریبی کی سب سے قابل رحم اور لا علاج قسم وہ ہے جس میں آدمی کے پاس کچھ نہ ہو لیکن اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ ماشاء اللہ سے ہم تلے اوپر کے نو بھائی تھے اور چار بہنیں۔ اور تلے اوپر تو میں نے محاورے کی مجبوری کے سبب کہہ دیا، ورنہ کھیل کود، کھانے اور لیٹنے بیٹھنے کے وقت اوپر تلے کہنا زیادہ صحیح ہو گا۔ سب کے نام ت پر ختم ہوتے تھے۔ عشرت، عترت، راحت، فرحت، عصمت، عفت وغیرہ۔ مکان خود والد نے مجھ سے بڑے بھائی کی سلیٹ پر ڈیزائن کیا تھا۔ سو سوا سو کبوتر بھی پال رکھے تھے۔ ہر ایک کی نسل اور ذات جدا۔ کسی کبوتر کو دوسری ذات کی کبوتری سے مختلط نہیں ہونے دیتے تھے۔ لکڑی کی دکان تھی۔ ہر کبوتر کا خانہ اس کی جسامت، عاداتِ قبیحہ اور دُم کی لمبائی کو ملحوظ رکھتے ہوئے خود بناتے تھے۔ صاحب، اب جو جا کے دیکھا تو مکان کے آرکی ٹیکچر میں سراسر ان کے اس شوق فضول کا عکس اور عمل دخل نظر آیا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارا مکان دراصل ان کے کبوتر خانے کا بھونڈا سا چربہ تھا۔

والد بہت دور اندیش اور پریکٹیکل تھے۔ اس اندیشے سے کہ ان کی آنکھ بند ہوتے ہی اولاد جائداد کے تقاسمہ پر جھگڑا کرئے گی، وہ ہر بیٹے کے پیدا ہوتے ہی اس کا علیحدہ کمرا بنوا دیتے تھے۔ کمروں کی تعمیر میں خرابی کی ایک سے زیادہ صورتیں مضمر تھیں یعنی یہ حفظِ مراتب بھی تھا کہ ہر چھوٹے بھائی کا کمرہ اپنے بڑے بھائی کے کمرے سے لمبائی چھوڑائی میں ایک ایک گز چھوٹا ہو۔ مجھ تک پہنچتے پہنچتے کمرے کے حدود اربعہ تقریباً اکڑوں بیٹھ گئے تھے۔ پورے سات سال لگے مکان مکمل ہونے میں۔ اس عرصے میں تین بھائی اور پیدا ہو گئے۔ آٹھویں بھائی کے کمرے کی دیواریں اٹھائی گئیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ قدمچوں کی نیو رکھی جا رہی ہے یا کمرے کی۔ ہر نومولود کی آمد پر سلیٹ پر سابقہ نقشے میں ضروری ترمیم اور ایک کمرے کا اضافہ کرتے۔ رفتہ رفتہ سارا آنگن ختم ہو گیا۔ وہاں ہمییں ورثے میں ملنے والی کوٹھریاں بن گئیں۔

آبِ گُم – شہر دو قصہ
بورژوایت پر بوذریت کا گمان​

صاحب، کہاں کراچی کی کوٹھی اور اس کے ایئر کنڈیشنز اور قالین اور روبلیک پینٹ اور کہاں یہ ڈھنڈار کہ کھانس بھی دو تو واللہ پلستر جھڑنے لگے۔ چالیس برس سے رنگ سفیدی نہیں ہوئی۔ پھوپھی زاد بھائی کے مکان میں ایک جگہ ترپال کی چھت گیری بندھی دیکھی۔ کراچی اور لاہور میں تو کوئی چھت گیری اور نم گیرہ کے معنی بھی نہیں بتا پائے گا۔ چھت گیری پر تین جگہ نیل پالش سے ضرب کا نشان x بنا ہے۔ مطلب یہ کہ اس کے نیچے نہ بیٹھو۔ یہاں سے چھت ٹپکتی ہے۔ کانپور اور لکھنؤ میں جس دوست اور رشتے دار کے یہاں گیا اسے پریشان حال ہی پایا۔ آگے جو سفید پوش تھے وہ اب بھی ہیں۔ مگر سفیدی میں پیوند لگ گئے ہیں۔ اپنی عسرت اور خودداری پر کچھ زیادہ ہی فخر کرنے لگے ہیں۔ ایک نجی محفل میں، میں نے اس پر اچٹتا سا فقرہ کس دیا تو ایک جونیئر لیکچرار جو کیس مقامی کالج میں اقتصادیات پڑھاتے ہیں، بگڑ گئے۔ کہنے لگے “ آپ کی امیری امریکا اور عرب امارات کی دین ہے۔ ہماری غریبی ہماری اپنی غریبی ہے۔ ( اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے قرات سے الحمد للہ کہا) مقروضوں کے اللے تللے آپ ہی کو مبارک ہوں۔ عرب اگر تھرڈورلڈ کو عالم الفقیر کہتے ہیں تو غلط نہیں کہتے۔“ میں مہمان تھا۔ ان سے کیا الجھتا۔ دیر تک فقر و غنا، نانِ جویں اور خودداری اور مفلسی کے دیگر لوازمات کی مدح میں اشعار سناتے رہے۔ دو شعر حضرت ابوذر غفاری رح پر بھی سنائے۔ شرما حضوری میں نے بھی داد دی۔ مہمان جو ٹھہرا۔ ہندوستان ہو یا پاکستان، آج کل ہر انٹلکچویل کو اپنی بےزری اور بورژوایت پر بوذریت کا گمان ہونے لگا ہے۔

کوئی چیز ایسی نہیں جو ہندوستان میں نہ بنتی ہو۔ ایک کانپور ہی کیا، ہر شہر کارخانوں سے پٹا پڑا ہے۔ کپڑے کی ملیں، فولاد کے کارخانے، کار اور ہوائی جہاز کی فیکٹریاں، ٹینک بھی بننے لگے۔ ایٹم بم تو عرصہ ہوا ایکسپلوڈ کر لیا۔ سیٹلائٹ بھی خلا میں چھوڑ دیا۔ عجب نہیں چاند پر بھی پہنچ جائیں۔ ایک طرف تو یہ ہے۔ دوسری طرف یہ نقشہ بھی دیکھا کہ ایک دن مجھے انعام اللہ برملائی (انعام اللہ ایک زمانے میں اس پر بہت فخر کرتے تھے کہ وہ ناگفتنی بات برملا کہہ دیتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کا لقب برملائی پڑ گیا۔) کے ہاں جانا تھا۔ ایک پیڈل رکشا پکڑی۔ رکشا والا مدقوق سا تھا۔ بنیان میں سے بھی پسلیاں نظر آ رہی تھیں۔ منھ سے بنارسی قوام والے پان کے بھبکے نکل رہے تھے۔ اس نے انگلی کا آنکڑا (ہُک) سا بنا کر پیشانی پر پھیرا تو پسینے کی تللی بندھ گئی۔ پسینے نے منھ اور ہاتھوں پر لسلسی چمک پیدا کر دی تھی جو دھوپ میں ایسی لگتی تھی جیسے ویسلین لگا رکھا ہو۔ ننگے پیر، سوکھی کلائی پر کلائی سے زیادہ چوڑی گھڑی۔ ہینڈل پر پروین بوبی ایکٹرس کا ایک سیکسی فوٹو۔ پیڈل مارتے میں دہرا ہو ہو جاتا اور پسینے میں تر پیشانی بار بار بوبی پر سجدہ ریز ہو جاتی۔ مجھے ایک میل ڈھو کے لے گیا۔ مگر گیس کیجیئے کتنا کرایہ مانگا ہو گا؟ جناب، کُل پچھتر پیسے، خدا کی قسم، پچھتر پیسے، میں نے ان کے علاوہ چار روپے پچیس پیسے کا ٹپ دیا تو پہلے تو اسے یقین نہیں آیا۔ پھر باچھیں کھل گئیں۔ کدو کے بیجوں جیسے پان آلودہ دانت نکلے رہ گئے۔ میرے بٹوے کو حریص نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا “ بابو جی آپ پاکستان سے آئے ہیں ؟ “ میں نے کہا “ ہاں – مگر پینتیس برس پہلے یہیں ہیرامن کے پردے میں رہتا تھا۔“ اس نے پانچ کا نوٹ انٹی سے نکال کر لوٹاتے ہوئے کہا “ بابو جی، میں آپ سے پیسے کیسے لے سکتا ہوں۔ آپ سے تو محلے داری نکلی، میری کھولی بھی وہیں ہے۔“

آبِ گُم – شہر دو قصہ
کون ٹھہرے سمے کے دھارے پر​

نشور واحدی اسی طرح تپاک اور محبت سے ملے۔ تین چار گھنٹے گپ کے بعد جب بھی میں نے یہ کہہ کر اٹھنا چاہا کہ اب چلنا چاہیے تو ہر بار ہاتھ پکڑ کے بٹھا لیا۔ میرا جی بھی یہی چاہتا تھا کہ اسی طرح روکتے رہیں۔ حافظہ خراب ہو گیا ہے ایک ہی نشست میں تین چار دفعہ آپ کے بارے میں پوچھا “ کیسے ہیں؟ سنا ہے مزاحیہ مضامین لکھنے لگے ہیں۔ بھئی حد ہو گئی۔“ منحنی اور روگی تو، آپ جانتے ہیں، سدا کے تھے۔ وزن پچھتر پونڈ رہ گیا ہے۔ عمر بھی اتنی ہی ہو گی۔ چہرے پر ناک ہی ناک نظر آتی ہے۔ منحنی پہ یاد آیا، کانپور میں چنیا کیلے، اس سائز کے، اب بھی ملتے ہیں۔ میں نے خاص طور سے فرمائش کر کے منگوائے۔ مایوسی ہوئی۔ اپنے سندھ کے چتی دار کیلوں کے آس پاس بھی نہیں۔ ایک دن میرے منھ سے نکل گیا کہ سرگودھے کا مالٹا، ناگپور کے سنترے سے بہتر ہوتا ہے تو نشور تڑپ کے بولے، یہ کیسے ممکن ہے؟ ویسے نشور ماشاء اللہ چاق و چوبند ہیں۔ صورت بہت بہتر ہو گئی ہے اس لیے کہ آگے کو نکلے ہوئے لہسن کی پوتھی جیسے اوبڑ کھابڑ دانت سب گر چکے ہیں۔ آپ کو تو یاد ہو گا، ثریا ایکٹرس کیا قیامت گاتی تھی، مگر لمبے دانت سارا مزہ کرکرا کر دیتے تھے۔ سنا ہے ہمارے پاکستان آنے کے بعد سامنے کے نکلوا دیئے تھے۔ ایک فلمی رسالے میں اس کا حالیہ فوٹو دیکھا تو خود پر بہت غصہ آیا کہ کاہے کو دیکھا۔ پھر اسی ڈر کے مارے اس کے ریکارڈ نہیں سنے۔ اعجاز حسین قادری کے پاس اس زمانے کے سارے ریکارڈ مع بھونپو والے گراموفون کے ابھی تک محفوظ ہیں۔ صاحب یقین نہیں آیا کہ یہ ہمارے لیے جدید سائنس، موسیقی اور سامانِ عیش کی انتہا تھی۔ انھوں نے اس زمانے کے سر سنگیت سمراٹ سیگل کے دو تین گانے سنائے۔ صاحب، مجھے تو بڑا شاک ہوا کہ آنجہانی کے ناک سے گائے ہوئے گانوں سے مجھ پر ایسا رومانی لرزہ کیسے طاری ہو جاتا تھا۔ موتی بیگم کا منھ جھریا کر بالکل کشمش ہو گیا ہے۔ نشور کہنے لگے، میاں، تم اوروں پہ کیا ترس کھاتے پھرتے ہو۔ ذرا اپنی صورت تو 47 کے پاسپورٹ فوٹو سے ملا کے دیکھو۔

کون ٹھہرے سمے کے دھارے پر
کوہ کیا اور کیا خس و خاشاک

کوئی کل ہند مشاعرہ ایسا نہیں ہوتا جس میں نشور نہ بلائے جائیں۔ غالباً کسی شاعر کو اتنا معاوضہ نہیں ملتا جتنا انہیں ملتا ہے۔ بڑی عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اب تو ماشاء اللہ گھر میں فرنیچر بھی ہے۔ مگر اپنی دیرینہ وضع پر قائم ہیں۔ طبیعت معمول پر تھی۔ یعنی بہت خراب۔ میں ملنے جاتا تو بان کی کھری چارپائی پر لیٹے سے اُٹھ بیٹھتے اور تمام وقت بنیان پہنے تکیے پر اکڑوں بیٹھے رہتے۔ اکثر دیکھا کہ پیٹ پر چارپائی کے بانوں کا نالی دار “پیٹرن“ بنا ہوا ہے۔ ایک دن میں نے کہا کہ پلیٹ فارم پر جب اناؤنسمنٹ ہوا کہ ٹرین اپنے نردھارت سمے سے ڈھائی گھنٹہ ولمھ سے پرویش کر رہی ہے تو بخدا میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ٹرین کیا کر رہی ہے۔ آ رہی ہے یا جا رہی ہے۔ یا ڈھائی گھنٹے سے محض کلیلیں کر رہی ہے۔ یہ سننا تھا کہ نشور بگڑ گئے۔ جوشِ بیاں میں تکیے پر سے بار بار پھسلے پڑتے تھے۔ ایک مشتعل لمحے میں زیادہ پھسل گئے تو بانوں کی جھری میں پیر کے انگوٹھے کو گھائی تک پھنسا کے فٹ بریک لگایا اور ایک دم تن کے بیٹھ گئے۔ کہنے لگے “ ہندوستان میں اردو کو مٹانا آسان نہیں۔ پاکستان میں پانچ برس میں اتنے مشاعرے نہیں ہوتے ہوں گے جتنے ہندوستان میں پانچ مہینے میں ہو جاتے ہیں۔ پندرہ بیس ہزار کا مجمع تو گویا کوئی بات ہی نہیں۔ اچھا شاعر بآسانی پانچ سات ہزار پیٹ لیتا ہے۔ کرایہ ریل، قیام و طعام اور داد اس کے علارہ۔ جوش نے بڑی جلد بازی کی، ناحق چلے گئے۔ اب پچھتاتے ہیں۔“ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ جوش کو سات آٹھ ہزار ماہوار – اور کار – دو بینکوں اور ایک انشورنس کمپنی کی طرف سے مل رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے مشاہرہ اور مکان علیحدہ گو کہ اس کی نوعیت وظیفہ عتاب کی سی ہے۔

ترنم میں اب نشور کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ ٹھہر ٹھہر کی پڑھتے ہیں مگر آواز میں اب بھی وہی سوز اور گمک ہے۔ بڑی بڑی آنکھوں میں وہی چمک – تیور اور لہجے میں کھرج اور نڈر پن جو صرف اس وقت آتا ہے جب آدمی زر ہی نہیں، زندگی اور دنیا کو بھی ہیچ سمجھنے لگے۔ دس بارہ تازہ غزلیں سنائیں۔ کیا کہنے، منھ پر آتے آتے رہ گئی کہ ڈینچرز لگا کر سنائیے۔ آپ نے تو انہیں بارہا سنا ہے۔ ایک زمانے میں ” یہ باتیں راز کی ہیں قبلہ عالم بھی پیتے ہیں“ والی غزل سے سارے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مگر اب “ دولت کبھی ایماں لا نہ سکی، سرمایہ مسلماں ہو نہ سکا“ والے اشعار پر داد کے ڈونگے نہیں برستے۔ سننے والوں کا مزاج بدلا ہوا ہے۔ سکوتِ سامعین بھی ایک نوع کی بے صدا ہوٹنگ ہے۔ اگر استاد داغ یا نواب سائل دہلوی بھی آج اپنی وہ توپ غزلیں پڑھیں جن سے ستر اسی برس قبل چھتیں اُڑ جاتی تھیں تو سامعین کی بدذوقی سے تنگ آ کر اٹھ کھڑے ہوں۔ مگر اب نشور کا رنگ بھی بدل گیا ہے۔ مشاعرے اب بھی لوٹ لیتے ہیں، سدا کے ملنگ ہیں۔ کہہ رہے تھے، اب کوئی تمنا، کوئی حسرت باقی نہیں۔ میں نے تو انہیں ہمیشہ بیمار، نحیف و نزار، مفلوک الحال اور مطمئن و مسرور ہی دیکھا۔ ان کے وقار و تمکنت میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ اہلِ ثروت سے کبھی پچک کے نہیں ملے۔ صاحب، یہ نسل ہی کچھ اور تھی۔ وہ سانچے ہی ٹوٹ گئے جن میں یہ آشفتہ مزاج کردار ڈھلتے تھے۔ بھلا بتائیے اصغر گونڈوی اور جگر مراد آبادی سے زیادہ مدمغ اور خوددار اور کون ہو گا۔ وسیلہ معاش؟ عینکیں بیچنا، وہ بھی دکان یا اپنے ٹھیلے پر نہیں – جہاں بھی پیٹ کا دھندا لے جائے۔ نشور سے میری دوستی تو ابھی حال میں چالیس پچاس برس سے ہوئی ہے، ورنہ اس سے قبل دوسرا ہی رشتہ تھا۔ میں نے قصائیوں کے محلے میں واقع مدرسہ ضیاالاسلام میں فارسی ان ہی سے پڑھی تھی۔ اور ہاں اب اس محلے کے قصائی پوتھ کی اچکن اور سرخ پییٹنٹ لیدر کے پمپ شوز نہیں پہنتے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اپنی برادری کا مروجہ لباس ترک نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا تھا۔

آبِ گُم – شہر دو قصہ
لاہور میں آج بسنت ہے​

میاں نذیر احمد شنکرات کے دن کڑکڑاتے جاڑے میں ململ کا کُرتا پہنے ننگے سر چھت پر پتنگ ضرور اڑاتے۔ یہ بھی ان کا بھولپن ہی تھا کہ ململ کے کُرتے کو جوانی کا سرٹیفکیٹ اور اشتہار سمجھ کر پہنتے تھے۔ ہم تین چار لڑکے چوری چھپے ان کی خوشبودار مرواریدی معجونیں فقط مٹھاس کے لالچ میں کھاتے، مگر دل ہی دل میں ان کے معجزانہ اثرات کے ہفتوں منتظر رہتے۔ میاں صاحب لحاف صرف اس وقت اوڑھتے جب بلبلا کے جاڑے سے بخار چڑھتا۔ یو پی کے جاڑے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ حقارت سے کہتے “ بادشاہو، یہ بھی کوئی سردی ہے۔“ دراصل لاہور کے جاڑے کے بعد وہ صرف ملیریا کے جاڑے کے قائل تھے۔ آپ کے مرزا عبد الودود بیگ بھی تو یہی الزام لگاتے ہیں نا، کہ یو پی کے کلچر میں جاڑے کو رج کے celebrate کرنے کا کوئی تصور نہیں۔ جب کہ پنجاب میں گرمی کے اس طرح چونچلے اور غمزے نہیں اٹھائے جاتے جس طرح یو پی میں۔ صاحب، یو پی میں جاڑے اور پنجاب میں گرمی کو محض سالانہ سزا کے طور پر برداشت کیا جاتا ہے۔ کم و بیش اسی نوع کا فرق برسات میں نظر آتا ہے۔ پنجاب میں بارش کو فقط اس لیے انگیز کرتے ہیں کہ اس کے بغیر فصلیں نہیں اُگ سکتیں۔ جب کہ یو پی میں ساون کا واحد مقصد و مصرف یہ نظر آتا ہے کہ کڑھائی چڑھے گی۔ درختوں پر آم اور جھولے لٹکیں گے۔ اور جھولوں میں کنواریاں بالیاں۔ پنجاب میں درختوں پر آم یا کچھ اور لٹکنے کی ایسی خوشی صرف طوطوں کو ہوتی ہے۔

اور انگلینڈ میں بارش کا فائدہ جو سال کے 345 دن ہوتی ہے (بقیہ بیس دن برفباری ہوتی ہے) آپ یہ بتاتے ہیں کہ اس سے شائستگی اور خوش اخلاقی فروغ پاتی ہے۔ مطلب یہ کہ جو گالیاں انگریز بصورتِ دیگر ایک دوسرے کو دیتے وہ اب موسم کو دیتے ہیں۔

شنکرات کے دن میاں نذیر احمد پیچ ویچ تو کیا خاک لڑاتے، بس چھ سات پتنگیں کٹوا اور ڈور لٹوا کر اپنا – اور اپنے سے زیادہ دوسروں کا – جی خوش کر لیتے تھے۔ ہر پتنگ کٹوانے کے بعد لاہور کے مانجھے کو بے تحاشا یاد کرتے۔ ارے صاحب، پتنگ کٹتی نہیں تو اور کیا۔ پیچ کانپور میں لڑاتے اور قصے لاہور کے بسنت کے رنگ رنگیلے آسمان کے سناتے جاتے۔ نظر بھی خاصی کمزور ہو چلی تھی۔ لیکن عینک صرف نوٹ گننے اور مچھلی کھاتے وقت طوعاً و کرعاً لگا لیتے تھے۔ عینک نہ لگانے کا ایک ضمنی نتیجہ یہ نکلتا کہ جس پتنگ کو وہ حریف کی پتنگ سمجھ کر بے تحاشا “ کھینچ“ کرتے، وہ دراصل ان کی اپنی ہی پتنگ نکلتی جو چند لمحوں بعد پہلے ہی مخالف رگڑے سے کٹ کر ہوا میں لالچی کی نیت کی طرح ڈانواں ڈول ہونے لگتی۔ ڈور یکایک لجلجی پڑ جاتی تو انہیں پتہ چلتا کہ کٹی پتنگ تیری، ڈور اب سمیٹا کر۔ میاں صاحب اکثر فرماتے کہ پتنگ اور کنکوے بنانے میں تو بے شک لکھنؤ والوں کا جواب نہیں، لیکن بادشاہو، ہوا لاہور ہی کی بہتر ہے۔ سچ پوچھو تو پتنگ لاہور ہی کی ہوا میں پیٹا چھوڑے (جھول کھائے) بغیر ڈور پہ ڈور پیتی اور زور دکھاتی ہے۔ پتنگ کے رنگ اور مانجھے کے جوہر تو لاہور ہی کے آسمان میں کھلتے اور نکھرتے ہیں۔ کانپور میں “ وہ کاٹا “ اس طرح کہتے ہیں جیسے معذرت، بلکہ تعزیت کر رہے ہوں۔ لاہور کے “ بو کاٹا “ میں پچھڑے ہوئے پہلوان کی چھاتی پر چڑھے ہوئے پہلوان کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ بلکہ پسینے میں شرابور جسم سے چمٹی ہوئی اکھاڑے کی مٹی تک نظر آتی ہے۔

میاں صاحب کی چرخی لاہور ہی کے ایک زندہ دل پکڑتے جو حلیم کالج کانپور میں لیکچرار تھے۔ عبدالقادر نام تھا۔ شاعری بھی کرتے تھے۔ دونوں مل کر پتنگ کو مبالغے کا مانجھا اور یادوں کی الجھی سلجھی تل چانولی (دو رنگی) ڈور ایسی پلاتے کہ چرخیاں کی چرخیاں خالی ہو جاتیں اور پتنگ آسمان پہ تارا ہو کے لاہور کی چوبرجی پہ جا نکلتی، جس نے ان کے وہ دن دیکھے تھے جب کوئی شے سادہ و بےرنگ نظر نہیں آتی :

غبار گلگوں ہے، آب رنگیں، زمیں ہے سرخ اور ہوا شہابی​
(ہوا شفق پوش، باغ و صحرا محیط ہے رنگِ لالہ و گل۔ (سراج اورنگ آبادی) اس پر مرزا کہتے ہیں کہ نوجوانی میں زیبرا بھی ملٹی کلرڈ دکھائی دیتا ہے۔)

مشتاق یوسفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے