آ مرا ہاتھ تھام

آ مرا ہاتھ تھام
بخش رنگین شام
وصل کی ساعتیں
مانگتی ہیں دوام
آنکھ نے دے دیا
دل کا دل کو پیام
لے کے آغوش میں
مجھ سے کر لے کلام
رانیوں کو رہی
آرزو ئے غلام
تم نہ ہو ساتھ تو
زندگی کو سلام
منتظر ہے تری
خواہشِ نا تمام
چشمِ ساقی میں تھا
لطفِ مینا و جام
خود پہ کر لی حلال
واعظوں نے حرام
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے