752 کلومیٹر دور کی ایک محبت

کوہِ قفقاز۔کوہ قاف بھی کہتے ہیں
752 کلومیٹر دور کی ایک محبت
بے تحاشا
مرادوں کی انجان گلیوں سے گزرا
مگر ہاتھ میں جو نہاں دستکیں تھیں
وہ مردہ ہوئیں
نارسائی کے قریہ میں
خود رو تمنا کی بیلوں کی کھڑکی نمودار ہوتی ہے
چاروں طرف پربتوں میں گِھری ایک چھت پہ وہ بیدار ہوتی ہے
متروک قصوں سے بےزار ہوتی ہے
بے صورتی کی وہ تفہیم سے نابلد
پھڑپھڑاتے ہوئے قہقہوں کی رسد
کاخ و کو میں وہ رونق بڑھاتی ہے
محفل جماتی ہے
پچھلی محبت سے ہاری
وہ تیغِ لطافت سے کوئی مکیں فتح کرتی نہیں
اور
چھکتی نہیں ذائقے وصل کے
کاغذی عشق پر دستخط کر کے اسکو
نہیں چاہیے معجزے اصل کے
منجمد موسموں میں ہمکتی ہوئی آگ سے بھی وہ بےزار ہے
نارسائی کے پھیکے متیرے*ہماری محبت کی کھیتی میں اُگتے رہے ہیں
کہیں سُرخ جذبوں کی توہین کرتے ہوئے لوگ ملتے رہے ہیں
پھٹی ایڑھیاں ریگزاروں میں چلتی ہیں
لیکن کبھی سائے کی بھی سہولت میسر نہیں
بُوئے وحشت ہمارے ہی سینے کے گُل سے نِکلتی ہے
لکین یہ پتھر زمانہ
لبِ خشک پر بوند بھر کی بشارت گِراتا نہیں
کینچوے موت کے رینگتے رینگتے سر پہ آنے لگے
اورتڑپے ہوئے ہاتھ کی دستکوں کو کوئی آزماتا نہیں
عرفان شہود
*متیرے۔تربوزےکو پنجابی میں متیرہ کہتے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے