24 January

بہت کٹھن شب تھی جس کی وحشت ابھی رگ و پے میں ناچتی ہے

وہ آخر شب کا وقت ہو گا کہ جب کسی نے مجھے جگا کر کہا کہ دیکھو

تمہارے سر پر جو آسماں تھا سمٹ گیا ہے

صدائے گریہ کہیں سے آتی تھی اور یہ کھل نہیں رہا تھا کہ کوئی گریہ کناں کہاں ہے

شکستہ پائی

اس ایک کمرے میں لے کے آئی

جہاں اک انبوہ غم گساراں تھا اور ہم تھے

وہیں شمال و جنوب کے رخ بچھی ہوئی ایک چارپائی

اور ایک اندوہ نا رسائی کہ جس کے آگے ہمارے دستِ رسا میں کچھ بھی نہیں رہا تھا

کوئی دریچہ کھلا ہوا تھا

ہوا کا جھونکا

لہو کو برفاب کرنے والا ہوا کا جھونکا

کوئی دریچہ کھلا ہوا تھا

کوئی نہیں تھا جو اس دریچے کو بند کر دے

مرا گھرانہ ہوا کی زد پر لرز رہا تھا

بلا کی یخ بستگی تھی جس کو

ابھی رگ و پے میں ناچنا تھا

سحر ہوئی تو ٹھٹھرتے سورج نے ایسے لوگوں پہ آنکھ کھولی

کہ جن کی آنکھوں میں رت جگا نیند کی طرح تھا

مرے در و بام ایسے ہاتھوں کو تک رہے تھے

جو اپنے ساتھی کے پاک دل کو غلاف کعبہ کے ایک ٹکڑے سے ڈھک رہے تھے

زوال کے بعد ایک مسجد کے کچے آنگن کو وہ صدائیں سنائی دیں جو پکارتی تھیں

صفوں کی تعداد طاق رکھنا

خبر نہیں ہے کہ اس گھڑی کائنات بھر میں

کوئی صدا بھی نہیں تھی یا تھی

بس اک تسلسل کے ساتھ تکبیر کی صدا تھی

سو ہم نے اس ایک ذات کے رخ سلا م پھیرا

کہ جس کا کوئی بھی رخ نہیں ہے

اور اپنی نظروں سے ایک کھلتے گلاب کو چوم کر اٹھایا

اور اپنے بچپن کی اور لڑکپن کی اور آغاز نوجوانی کی میتیں دوش پر اٹھائے

ہم ایک ایسی لحد کی جانب چلے جو تازہ کھدی ہوئی تھی

تو ہم نے اس شام چار قبروں پہ مٹی ہموار کی تھی جن میں سے تین قبریں

دکھائی دیتی نہ تھیں مگر تھیں

اور آج تک ہم نے اپنی مدفون آرزوؤں کے

اور خوشیوں کے

اور بے فکر زندگی کے

سرہانے کتبے نہیں لگائے

۔۔۔

چوبیس جنوری ۔۔۔ والد گرامی صاحب کمال صاحب دل جناب زکی کیفی کی تاریخ وفات

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے