23 مارچ

شاعر: احمد فراز
کتاب: تنہا تنہا سے انتخاب
(جشنِ جمہوریہ پاکستان کے موقع پر لکھی گئی)
“خوشا یہ ساعتِ رنگیں خوشا یہ روزِ طرب
ستم کشو! نئی منزل کا احترام کرو
اداس چہروں سے گردِ ملال دھو ڈالو
ملول روحوں کو ہنس ہنس کے شاد کام کرو
درونِ خانہ گھنی ظلمتیں سہی لیکن
بڑے خلوص سے تزئینِ سقفِ و بام کرو
چراغ ہوں کہ لہو ہو کہ آنسوؤں کی لکیر
پھر آج جشنِ بہاراں کا اہتمام کرو
شبِ الم کی حکایات کا یہ وقت نہیں
اٹھو اور اُٹھ کے نئی صبح کو سلام کرو”
امیرِ شہر کے فرمان سب بجا لیکن
فقیرِ شہر بھی کچھ عرضِ حال کرتے ہیں
خطا معاف بصد احترام عہدِ وفا
سسکتے ہونٹ، دکھے دل سوال کرتے ہیں
کہ ہم تو وہ ہیں جو با وصفِ ضعفِ تشنہ لبی
مزاج پیرِ مغاں کا ملال کرتے ہیں
ہر ایک تیر کو خوش آمدید کہتے ہیں
دو چند اہلِ حشم کو جلال کرتے ہیں
ہمیں تو جاں سے زیادہ عزیز دردِ وطن
مگر حضور بھی ایسا خیال کرتے ہیں
چمن میں جشنِ ورودِ بہار جب بھی ہوا
وطن میں جب بھی فروزاں ہوئے خوشی کے دیے
رہی ہے بوالہوسوں کے سبو میں بادۂ ناب
بلا کشانِ وفا نے لہو کے گھونٹ پئے
مہ و نجوم رہے بزمِ شہر یاراں میں
نگاہِ خلق ترستی رہی کرن کے لیے
ادھر عبا و قبا کا خیال دامن گیر
ادھر یہ فکر کہ کوئی جگر کے چاک سیئے
تو کیا یہی غمِ جمہور کے تقاضے ہیں
نظر اُٹھا کے نہ دیکھیں کوئی مرے کہ جئے
زہے نصیب کہ جو اب بھی غمِ مآل رہے
یہ دورِ نو ہے مبارک اگر سنبھل کے چلیں
یہ چند سانسوں کی فرصت بڑی غنیمت ہے
کسے خبر ہے کہ پھر حادثے ٹلیں نہ ٹلیں
خدا وہ وقت نہ لائے کہ گردشوں کے طفیل
حضور اپنی جفا کیشیوں پہ ہاتھ ملیں
جو ہو سکے تو مٹا دیں یہ فاصلے ورنہ
کہیں یہ ذرّے ستاروں سے انتقام نہ لیں
بجھے ہوں دل تو اندھیرے کبھی نہیں مٹتے
یہ قمقمے تو کجا لاکھ آفتاب جلیں
٭٭٭​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے